امریکی محکمہ خارجہ نے طالبان پر امریکی شہریوں کو ’یرغمال بنانے کی پالیسی‘ جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے افغانستان میں زیر حراست تمام امریکی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ امریکی شہریوں کا تحفظ، دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں اور افغان خواتین کے حقوق کا دفاع اس کی افغانستان پالیسی کی اہم ترجیحات ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان الزبتھ اسٹکنی نے افغانستان انٹرنیشنل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان اب بھی امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور افغانستان میں غلط طور پر زیر حراست تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان کا ہرات میں نیا کریک ڈاؤن، متعدد خواتین نامعلوم مقام پر منتقل
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے امریکی شہریوں کا تحفظ اور امریکا کے قومی مفادات کا دفاع افغانستان سے متعلق پالیسی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
الزبتھ اسٹکنی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی بھی افغانستان کے حوالے سے امریکا کے اہم قومی مفادات میں شامل ہے اور واشنگٹن اس معاملے پر مسلسل توجہ دے رہا ہے۔
A US State Department spokesperson told Afghanistan International that the Taliban continues its “hostage-taking policy” and called for the release of all Americans wrongfully detained in Afghanistan.https://t.co/xzxs5pPeZ3 pic.twitter.com/F0c6fKemT4
— Afghanistan International English (@AFIntl_En) July 9, 2026
انہوں نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کو ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنی چاہییں۔ ان کے مطابق افغان خواتین اور بچیوں کو تعلیم، روزگار اور دیگر بنیادی حقوق سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔
افغانستان کی موجودہ صورتحال میں تبدیلی کے لیے امریکی حکمت عملی سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پر فعال انداز میں کام کر رہا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
طالبان حکومت کی جانب سے امریکی محکمہ خارجہ کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔













