طالبان کا ہرات میں نیا کریک ڈاؤن، متعدد خواتین نامعلوم مقام پر منتقل

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان کے شہر ہرات میں طالبان نے لباس سے متعلق اپنے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر خواتین کے خلاف ایک بار پھر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر وزارت کی ٹیموں نے کئی خواتین کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جبکہ گزشتہ ماہ شروع ہونے والی اس مہم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان نے جمعہ کو ہرات شہر میں متعدد خواتین کو مبینہ طور پر لباس کے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کم از کم 2 گشتی گاڑیاں ہرات کی معروف 64 میٹر روڈ پر موجود تھیں، جہاں سے خواتین کو حراست میں لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق دونوں گاڑیوں میں گرفتار خواتین کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، تاہم حراست میں لی گئی خواتین کی درست تعداد سامنے نہیں آ سکی۔ ہرات کے رہائشیوں کے مطابق 64 میٹر روڈ کو جمعہ بازار بھی کہا جاتا ہے، جہاں ہر جمعہ نئے اور استعمال شدہ گھریلو سامان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کی جانب سے حاصل کی گئی تصاویر میں طالبان کی گاڑیوں کو خواتین کو لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کا سلسلہ جون کے وسط سے جاری ہے۔ ان کارروائیوں کے خلاف جبرائیل ٹاؤن شپ کے رہائشیوں نے احتجاج کیا تھا، جہاں مظاہرین نے ’تعلیم، کام، آزادی‘ اور ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے لگائے۔

ذرائع کے مطابق طالبان نے احتجاج منتشر کرنے کے لیے مظاہرین پر فائرنگ کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو کم عمر لڑکے ہلاک اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کئی مظاہرین کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں این آر ایف کا طالبان پر حملے کا دعویٰ، 2 طالبان اہلکار ہلاک، 3 زخمی

3 روز بعد ہرات کے شہریوں نے طالبان گورنر کے دفتر کے باہر دوبارہ احتجاج کیا اور خواتین کی گرفتاریوں کے خاتمے، تعلیم اور روزگار کے حق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے قبل طالبان نے شہر بھر میں سینکڑوں مسلح اہلکار اور فوجی گاڑیاں تعینات کر دیں۔ بعد ازاں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

ہرات میں خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن اور احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائیوں پر دنیا کے تقریباً 30 شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ یورپ، کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں افغان باشندوں اور خواتین کے حقوق کے حامیوں نے ’تعلیم، کام، آزادی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے خواتین کی گرفتاریوں کے خاتمے، مظاہرین کے خلاف کارروائیاں روکنے اور عالمی برادری سے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانے کا مطالبہ کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں