افغانستان کے شہر ہرات میں طالبان نے لباس سے متعلق اپنے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر خواتین کے خلاف ایک بار پھر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کی امر بالمعروف و نہی عن المنکر وزارت کی ٹیموں نے کئی خواتین کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، جبکہ گزشتہ ماہ شروع ہونے والی اس مہم کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق طالبان نے جمعہ کو ہرات شہر میں متعدد خواتین کو مبینہ طور پر لباس کے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کم از کم 2 گشتی گاڑیاں ہرات کی معروف 64 میٹر روڈ پر موجود تھیں، جہاں سے خواتین کو حراست میں لیا گیا۔
طالبان بار دیگر شماری از زنان را در هرات بازداشت کرد pic.twitter.com/YdvuCvAx60
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) July 10, 2026
ذرائع کے مطابق دونوں گاڑیوں میں گرفتار خواتین کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، تاہم حراست میں لی گئی خواتین کی درست تعداد سامنے نہیں آ سکی۔ ہرات کے رہائشیوں کے مطابق 64 میٹر روڈ کو جمعہ بازار بھی کہا جاتا ہے، جہاں ہر جمعہ نئے اور استعمال شدہ گھریلو سامان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
افغانستان انٹرنیشنل کی جانب سے حاصل کی گئی تصاویر میں طالبان کی گاڑیوں کو خواتین کو لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کا سلسلہ جون کے وسط سے جاری ہے۔ ان کارروائیوں کے خلاف جبرائیل ٹاؤن شپ کے رہائشیوں نے احتجاج کیا تھا، جہاں مظاہرین نے ’تعلیم، کام، آزادی‘ اور ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے لگائے۔
ذرائع کے مطابق طالبان نے احتجاج منتشر کرنے کے لیے مظاہرین پر فائرنگ کی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو کم عمر لڑکے ہلاک اور 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کئی مظاہرین کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں این آر ایف کا طالبان پر حملے کا دعویٰ، 2 طالبان اہلکار ہلاک، 3 زخمی
3 روز بعد ہرات کے شہریوں نے طالبان گورنر کے دفتر کے باہر دوبارہ احتجاج کیا اور خواتین کی گرفتاریوں کے خاتمے، تعلیم اور روزگار کے حق کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق احتجاج شروع ہونے سے قبل طالبان نے شہر بھر میں سینکڑوں مسلح اہلکار اور فوجی گاڑیاں تعینات کر دیں۔ بعد ازاں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔
ہرات میں خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن اور احتجاجی مظاہروں کے خلاف کارروائیوں پر دنیا کے تقریباً 30 شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔ یورپ، کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں افغان باشندوں اور خواتین کے حقوق کے حامیوں نے ’تعلیم، کام، آزادی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے خواتین کی گرفتاریوں کے خاتمے، مظاہرین کے خلاف کارروائیاں روکنے اور عالمی برادری سے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر نہ لانے کا مطالبہ کیا۔














