امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ تازہ حملوں اور کشیدگی کے باوجود تیل کی ترسیل کے اسٹریٹجک روٹ ’آبنائے ہرمز‘ سے تجارتی آمدورفت تاحال جاری ہے۔
این بی سی کے پروگرام ’میٹ دی پریس‘ میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا جس میں تہران نے کہا تھا کہ اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کا گزرنا اب ممکن نہیں رہا‘۔
ایران پر امریکی حملے اور معاہدے کی ناکامی کا انکشاف
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں ایران پر تازہ امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے گزشتہ رات ان پر بہت شدید ضرب لگائی ہے‘ ۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس حالیہ کشیدگی سے محض چند گھنٹے قبل امریکا اور ایران ایک معاہدے پر پہنچنے کے بالکل قریب تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ ہر چیز سے دستبردار ہونے پر تیار ہو چکے تھے، لیکن پھر اچانک 2 گھنٹے بعد انہوں نے ایک بحری جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا۔ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نہ کوئی مسئلہ ضرور ہے۔
ایران اور امریکی سینٹکام کے متضاد دعوے
اس سے قبل ایران کی ’پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی‘ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوجی دستوں کی ’غیر قانونی نقل و حرکت‘ کے باعث فی الحال بحری جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکتے۔
ایرانی اتھارٹی کا کہنا تھا کہ جہاز رانی کی درخواستوں پر کارروائی صرف اسی صورت میں کی جائے گی جب خطے میں استحکام اور امن بحال ہوگا۔
دوسری طرف، امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے اس مؤقف کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اصرار کیا کہ آبنائے ہرمز ان تمام جہازوں کے لیے ‘کھلی ہے’ جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق سفر کرنا چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں:واشنگٹن اور تہران کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطے تیز، قطر اور پاکستان بھی متحرک
سینٹکام کا الزام ہے کہ امریکی افواج ایران کے حملوں، دھمکیوں اور اعلانات کے باوجود جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
خطرے کی شدت اور عمان کا متبادل راستہ
ادھر امریکا کی حمایت یافتہ ’جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر‘ نے بھی تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عمان کا جنوبی راستہ دونوں طرف کی تجارتی آمدورفت کے لیے کھلا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ سمندری سیکیورٹی کے خطرات کی سطح تاحال انتہائی شدید ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے لیے تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ لے جانے والی اہم ترین بحری گزرگاہ ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے اس تازہ تبادلے نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔














