امریکا کے ایران پر نئے فضائی حملے، ایران کا کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملوں کا دعویٰ

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں پر ایک مرتبہ پھر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں جنوب مغربی صوبے خوزستان سمیت متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صوبہ خوزستان کے نائب گورنر برائے سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے امور ولی اللہ حیاتی نے بتایا کہ امریکی افواج نے گزشتہ رات خوزستان کے کم از کم 8 مختلف مقامات پر حملے کیے۔ ان کے مطابق یہ حملے مقامی وقت کے مطابق رات ایک بج کر 35 منٹ سے دو بج کر 20 منٹ کے درمیان مختلف مراحل میں کیے گئے۔

ولی اللہ حیاتی کا کہنا تھا کہ مختلف علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی کہ اہواز ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، واضح کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے قریب دو مقامات پر حملے ہوئے، تاہم وہ ایئرپورٹ سے باہر مضافاتی علاقے تھے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان کا امریکا ایران کشیدگی پر اظہار تشویش، برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ

اس سے قبل ولی اللہ حیاتی نے بتایا تھا کہ ماہشہر میں زرعی آبپاشی کے لیے استعمال ہونے والے واٹر پمپنگ اسٹیشن پر ایک میزائل یا گولہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والا شخص پمپنگ اسٹیشن کا سیکیورٹی گارڈ تھا، جبکہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران میں ’درجنوں اہداف‘ کو انتہائی درست ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا تھا جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری جہاز رانی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے مراکز، اور چھوٹی عسکری کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سینٹکام نے یہ بھی بتایا کہ ان کارروائیوں میں لڑاکا طیاروں، بحری جنگی جہازوں، یک طرفہ حملہ آور ڈرونز اور پہلی مرتبہ یک طرفہ حملہ آور سمندری ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ آبی گزرگاہ بند ہے۔ دونوں ممالک کے متضاد بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ادھر ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر بندر عباس میں بھی کم از کم 2 زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یہ دھماکے امریکی سینٹرل کمان کی جانب سے تازہ حملوں کے اختتام کے اعلان سے چند لمحے قبل ہوئے۔

’الجزیرہ‘ نے  ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے حوالے سے بتایا  ہے کہ اس نے کویت، بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایران اور امریکا کے درمیان تازہ حملوں کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی آمدورفت کے لیے کھلی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

آئی آر جی سی کے مطابق اس کی فضائیہ نے کویت کے علی السالم ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر اور پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ احمد الجابر ایئر بیس پر نصب ایک اہم ایف پی ایس ریڈار سسٹم کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق یہ کارروائی ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ آپریشن کے تیسرے مرحلے کے تحت امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، اور یہ آپریشن ابھی جاری ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز میں اپنی فوجی مداخلت جاری رکھتا ہے تو ایران اس کی اجازت نہیں دے گا۔

اسی طرح آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئر بیس پر بھی متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں ہیلی کاپٹروں کی مرمت کی سہولت، ایک ہینگر جس میں امریکی پی-8 طیارہ موجود تھا، اور امریکی ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر شامل ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ حملے امریکی فوجی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

اردن کے حوالے سے آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے پرنس حسن ایئر بیس پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد ایندھن کے ذخائر اور اسلحہ ڈپو میں آگ لگ گئی۔ ایرانی بیان کے مطابق یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔

آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں سے قبل ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں 2 ایسے بحری جہازوں کو روکنے کی کارروائی کی تھی جن پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر رکھے تھے، غیر قانونی طور پر سفر کر رہے تھے اور بحری آمدورفت کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

الجزیرہ نے  ایک ایرانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے خطے میں ’دشمن کے فوجی اڈوں‘ پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران دشمن کی نقل و حرکت کی بنیاد پر منتخب اہداف کے خلاف کی جا رہی ہے اور امریکی حملوں کے تسلسل کا جواب ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سیرت النبیؐ کا پیغام نئی نسل تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے: سردار محمد یوسف

شہدا کی قربانی کو تنخواہ سے نہیں تولا جا سکتا، احسن اقبال کا مولانا فضل الرحمان سے اختلاف

سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت، وزیراعظم شہباز شریف کا ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار

شہدا کے خلاف ہرزہ سرائی قومی یکجہتی اور قومی مفاد کے منافی ہے، شرجیل انعام میمن کا شدید ردعمل

سونے کی قیمت میں مزید بڑی کمی، فی تولہ کتنے ہزار روپے سستا ہو گیا؟

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم