اگست میں مکمل سورج گرہن کا ایک نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، تاہم دنیا کے بیشتر ممالک کے برعکس یہ گرہن صرف چند مخصوص علاقوں میں مکمل طور پر نظر آئے گا۔
امریکی خلائی ادارے کے مطابق 12 اگست کو مکمل سورج گرہن گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی روس، اسپین، پرتگال کے بعض حصوں اور بحرِ اوقیانوس کے اوپر دیکھا جاسکے گا۔ اسپین کے جزائرِ بالیئرک میں سورج غروب ہونے سے پہلے مکمل گرہن کا خوبصورت منظر نظر آئے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 121 سال بعد اسپین میں مکمل سورج گرہن، فلکیات کے شائقین پُرجوش
امریکا، جنوبی کینیڈا، یورپ اور شمال مغربی افریقہ کے متعدد علاقوں میں مکمل کے بجائے جزوی سورج گرہن دکھائی دے گا۔ جزوی گرہن کے دوران چاند سورج کے صرف ایک حصے کو ڈھانپے گا، جس سے ایسا محسوس ہوگا جیسے سورج کا ایک کنارہ کٹا ہوا ہو۔
فلکیاتی ماہرین کے مطابق مکمل سورج گرہن اس وقت ہوتا ہے جب چاند زمین اور سورج کے درمیان آکر سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتا ہے، جس کے باعث دن کے وقت بھی کچھ دیر کے لیے آسمان تاریک ہوجاتا ہے۔ تاہم یہ منظر صرف ان علاقوں میں دیکھا جاسکتا ہے جو مکمل گرہن کے مخصوص راستے میں واقع ہوں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل سورج گرہن اوسطاً ہر ڈیڑھ سال بعد زمین کے کسی نہ کسی حصے میں وقوع پذیر ہوتا ہے، جبکہ گزشتہ مکمل سورج گرہن 8 اپریل 2024 کو دیکھا گیا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سورج گرہن کے اگلی ہی رات آسمان پر سالانہ برساوشی شہابی بارش اپنے عروج پر ہوگی، جو نئے چاند کی رات کے باعث نہایت واضح دکھائی دینے کی توقع ہے۔ فلکیاتی ماہرین اسے سال کی بہترین شہابی بارشوں میں شمار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: زمین پر آخری مکمل سورج گرہن، سائنسدانوں نے کائناتی نظارے کے خاتمے کے وقت کا تعین کردیا
ماہرین نے سورج گرہن دیکھنے والوں کو ہدایت کی ہے کہ جزوی گرہن کے دوران آنکھوں کے تحفظ کے لیے منظور شدہ حفاظتی چشمے ضرور استعمال کریں، کیونکہ بغیر حفاظتی انتظامات کے براہِ راست سورج کو دیکھنا بینائی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور کیس کا فیصلہ مکمل میرٹ اور قانون کے مطابق کیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ذاتی مواد جاری کرنے کی دھمکی دے کر کسی پر دباؤ ڈالنے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔














