سراج رئیسانی کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے، دہشتگرد امن و استحکام کا راستہ نہیں روک سکتے : سرفراز بگٹی

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دشمن کی منظم سازش ہے کہ دہشتگردی کے ذریعے معصوم شہریوں کو نشانہ بناکر اس کا الزام ریاست پرعائد کیا جائے تاکہ بلوچستان میں بداعتمادی اور انتشار کو فروغ دیا جاسکے، تاہم حکومت اور عوام کی مشترکہ قوت ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی۔

کوئٹہ میں شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کی 8ویں برسی کے موقع پر منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کا راستہ امن، استحکام اور ترقی کا راستہ ہے اور دہشتگردی یا کسی بھی دباؤ کے ذریعے اس سفر کو نہیں روکا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: دہشتگردوں کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

تقریب میں رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، صوبائی وزراء، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما، رئیسانی قبائل کے عمائدین، سیاسی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں شہید میر سراج خان رئیسانی کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اگر ان کی جان سے بلوچستان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے تو وہ اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار ہیں، کیونکہ ان کے لیے عہدہ نہیں بلکہ عوام کی خدمت سب سے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرسی آنی جانی چیز ہے، اصل مقصد عوام کی خدمت اور صوبے میں امن و ترقی کا قیام ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہرممکن اقدام کرے گی اور ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی اور تشدد کے ذریعے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا، جبکہ شرپسند عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرکے ایک لاحاصل جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔؎

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات تعلیم، صحت، روزگار اور بلوچستان کی پائیدار ترقی ہیں۔ انہوں نے بھارت کے حمایت یافتہ عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کتنے ہی سراج رئیسانی شہید کردیے جائیں، اس دھرتی کا ہر گھر وطن کے دفاع کے لیے ایک اور سراج رئیسانی پیدا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہید سراج رئیسانی کا مشن جاری رہے گا اور ان کی قربانی ہمیشہ قوم کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آپریشن شعبان اور دیگر کارروائیوں میں 5 جولائی سے اب تک 75 مار دیے گئے، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ شہدا کی قربانیوں پر سیاست افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ببری، ہنہ اڑک، زیارت اور دہشتگردی سے متاثرہ دیگر علاقوں میں متاثرین اور شہداء کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کرچکی ہے اور ان کے جائز مطالبات پورے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ماشکیل میں بے گناہ مزدوروں کو شہید کیا گیا، مگر ان کے ورثاء نے احتجاج یا دھرنا نہیں دیا۔ اسی طرح میر شفیق الرحمان مینگل کے گھر پر حملے کے بعد بھی شہداء کو سپردِ خاک کیا گیا اور ان کی لاشوں پر سیاست نہیں کی گئی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کھڈکوچہ سانحہ، 8اگست کے سانحے اور پولیس لائن حملے جیسے افسوسناک واقعات کے بعد بھی استعفوں سے مسائل حل نہیں ہوئے بلکہ عملی اقدامات سے حالات بہتر بنائے گئے۔

انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ حکومت کی کارکردگی پر ضرور تنقید کرے، لیکن شہدا کے خون کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی، ایف سی، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے روزانہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں، اور حکومت و عوام اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ پہلے بھی کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: دشت واقعہ: سرفراز بگٹی کی مرحوم تاجر علی مرتضیٰ کے گھر آمد، بچیوں کی کفالت کا اعلان

اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی نے کہا کہ ان کے والد شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی کو شہید کرکے وطن سے محبت ختم کرنے کی کوشش کی گئی، مگر ان کی شہادت کے بعد عوام کی محبت میں مزید اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والد کی طرح ریاست پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

تقریب کے اختتام پر شہید نوابزادہ میر سراج خان رئیسانی سمیت وطن عزیز کے تمام شہداء کے درجات کی بلندی، ملکی سلامتی، امن اور بلوچستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp