وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، خصوصاً نیٹ فلکس پر ان کا جائز مقام دلانے کے لیے سرگرم ہے اور اس سلسلے میں نیٹ فلکس سمیت دیگر عالمی اسٹریمنگ کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں احسن اقبال نے کہاکہ پاکستانی فلمیں اور ڈرامے معیار کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں اور دنیا بھر میں انہیں بے حد پسند کیا جاتا ہے۔
Pakistani dramas and films are second to none, commanding immense demand and heartfelt appreciation across the globe. Under our Uraan Pakistan export endeavors, the creative and cultural industry stands as a vital cornerstone for our national export strategy.
While major OTT…— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) July 12, 2026
مزید پڑھیں: نیٹ فلکس کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی، ’نارنیا‘ 45 روز تک صرف بڑے پردے کی زینت بنے گی
انہوں نے کہاکہ تفریحی صنعت حکومت کے ’اڑان پاکستان‘ پروگرام کے تحت قومی برآمدی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہے۔
’عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر پاکستانی مواد کو مناسب جگہ نہیں مل رہی‘
احسن اقبال نے کہاکہ عالمی اوور دی ٹاپ (او ٹی ٹی) پلیٹ فارمز پاکستانی مواد کو بین الاقوامی ناظرین تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہیں، تاہم بدقسمتی سے علاقائی سیاست کے باعث طویل عرصے سے ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی مواد کو اس کا جائز مقام نہیں دیا جا رہا۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نیٹ فلکس اور دیگر عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے ساتھ علاقائی فریم ورک میں تبدیلی کے حوالے سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ پاکستانی مواد کو منصفانہ نمائندگی مل سکے اور پاکستانی تخلیق کاروں کے لیے پائیدار شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
’مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا جائےگا‘
وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت ایک مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارم متعارف کرانے پر بھی کام کررہی ہے، جس کے ذریعے پاکستانی فلموں اور ٹی وی ڈراموں کو دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچایا جائےگا۔
انہوں نے کہاکہ یہ اقدام پاکستان کی تخلیقی صنعت کو عالمی منڈی تک رسائی دینے اور ملکی تفریحی شعبے کی برآمدات بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
’سلمان اقبال نے مقامی پلیٹ فارم کی حمایت کردی‘
اے آر وائی ڈیجیٹل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلمان اقبال نے احسن اقبال کی تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو اپنی تفریحی صنعت کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنا اسٹریمنگ پلیٹ فارم تیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستانی میڈیا کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے پہلے ہی بہت محنت کی جا چکی ہے اور ملک کے پاس مطلوبہ ٹیکنالوجی اور تخلیقی صلاحیت موجود ہے کہ وہ اپنا کامیاب اسٹریمنگ پلیٹ فارم قائم کر سکے۔
Respectfully Sir, instead of relying on others, we need a homegrown OTT platform. We have the tech & creative skills to build it. Pakistani content already rules hearts globally. We have worked very hard to bring our content into millions of homes both in Pakistan and across the… https://t.co/B355TEU9Sh
— Salman Iqbal ARY (@Salman_ARY) July 12, 2026
سلمان اقبال نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ نیٹ فلکس نے اے آر وائی ڈیجیٹل سے مواد حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا، تاہم انہوں نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف اردو مواد کے ناظرین کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے، جو پاکستان کے لیے اپنی الگ راہ اختیار کرنے کے لیے کافی ہے۔
’مہرین جبار نے بھی خدشات ظاہر کیے تھے‘
اس سے قبل فلم ساز مہرین جبار بھی یہ خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ ایک ہمسایہ ملک اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے عالمی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر پاکستانی مواد کو پس منظر میں دھکیل رہا ہے۔
مزید پڑھیں: فلموں کے ساتھ اب گیمز بھی، نیٹ فلکس پر نیا فیچر متعارف
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں صورتحال بہتر ہوگی، خاص طور پر پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس سیریز آئندہ ایک سال کے دوران ریلیز ہونے کی توقع ہے، جس سے پاکستانی مواد کو عالمی سطح پر نئی شناخت مل سکتی ہے۔














