پاکستان نے سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے کیے گئے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے یمن کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے مطابق یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان علما کونسل کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے کی شدید مذمت
پاکستان کا یہ ردعمل اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن سے حوثیوں کی جانب سے مملکت کے جنوبی علاقے کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت شدید کشیدگی اور باہم جڑے متعدد بحرانوں سے دوچار ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریق اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی میں کمی کے عزم کو اختیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ یمن میں پائیدار، جامع اور دیرپا امن صرف اقوام متحدہ کی سہولت کاری میں یمنی قیادت اور یمنی ملکیت کے سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے، جو تمام یمنی عوام کی جائز امنگوں کو مدنظر رکھے۔
پاکستانی مندوب نے رواں سال ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ثابت ہوا ہے کہ مشکل حالات میں بھی مذاکرات عملی نتائج دے سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے ملک گیر جنگ بندی اور جامع سیاسی تصفیے کے لیے کام کریں۔
سفیر عثمان جدون نے یمن کی سنگین انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام برسوں سے جنگ، بے گھر ہونے، معاشی مشکلات، غذائی قلت اور بنیادی خدمات کی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ مزید کشیدگی امن کی امیدوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ کرے گی۔
انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اقوام متحدہ، انسانی امدادی اداروں اور سفارتی عملے کی مسلسل من مانی حراست، اقوام متحدہ کے دفاتر اور اثاثوں پر غیرقانونی قبضے کی بھی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا، جو انسانی امدادی سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:سعودی عرب کا پاکستانی سیاحوں کے لیے نیا ’پیکیج ویزا‘ نظام کیا ہے؟
پاکستان نے تمام زیرِ حراست اہلکاروں کی فوری اور غیرمشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے عملے، تنصیبات اور اثاثوں کے استحقاق اور تحفظ کا مکمل احترام یقینی بنانے پر زور دیا۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، مذاکرات، سفارت کاری، کشیدگی میں کمی اور اقوام متحدہ کے منشور و بین الاقوامی قانون کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔














