کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہر دھونس اور انتشار کا جواب دیا جائےگا، حکومت آزاد کشمیر، تعلیمی اداروں کے لیے انتباہ

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری داخلہ چوہدری گفتار حسین اور سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے کہا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ 38 روز سے آزاد کشمیر کے امن اور معمولاتِ زندگی کو سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست کے بیشتر علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں، تمام سرکاری و نجی ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، جبکہ راولاکوٹ میں امن و امان کی بحالی اور اہم شاہراہوں کی کلیئرنس کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری ہے۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی طلبہ کو ڈھال بنانا چاہتی ہے، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی، آزاد کشمیر حکومت

سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے حقوق کے نام پر احتجاج کا لبادہ اوڑھ کر دھونس، بلیک میلنگ اور پروپیگنڈے کی سیاست کو مستقل ہتھیار بنایا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنظیم کا اصل مقصد پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دینا، افواجِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنا اور پاکستان و کشمیر کے تاریخی رشتے کو نقصان پہنچانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں کو دھمکیاں دے کر بازار بند کرانا، شہریوں کی معمول کی زندگی متاثر کرنا، جبکہ طلبہ، خواتین اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اس تنظیم کا وطیرہ بن چکا ہے۔ ان کے بقول طلبہ کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں احتجاجی اور انتشاری سیاست کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ آزاد کشمیر کی اکثریت کالعدم تنظیم کے انتشاری ایجنڈے کو مسترد کر چکی ہے اور ریاست کے بیشتر علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہونے کے ساتھ تمام تعلیمی ادارے دوبارہ فعال ہو چکے ہیں۔

خواجہ مہران کی ڈیڈ لائن مسترد، ریاستی ادارے متحرک

انہوں نے کہاکہ کالعدم تنظیم کے سرغنہ خواجہ مہران نے آزاد کشمیر کے داخلی راستے بند کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی ہے، تاہم ماضی کی طرح یہ دھمکیاں بھی ناکام ہوں گی۔

انہوں نے کہاکہ ریاستی ادارے ہر قسم کی بلیک میلنگ، دھونس اور انتشار کا قانون کے مطابق جواب دینے کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں، جبکہ کالعدم کمیٹی کے گزشتہ احتجاجوں کے باعث آزاد کشمیر کو پہلے ہی اربوں روپے کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

راولاکوٹ میں فائرنگ، آپریشن اور رینجرز کی تعیناتی

سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ علی الصبح متیال میرہ بس ٹرمینل راولاکوٹ میں شرپسندوں نے معصوم شہریوں پر بلااشتعال اندھا دھند فائرنگ کی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر فائرنگ رکوانے کی کوشش کی تو مسلح جتھوں نے خودکار ہتھیاروں اور بارودی مواد سے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلح عناصر کے خلاف فوری آپریشن شروع کیا، جبکہ پولیس کی معاونت کے لیے رینجرز کی نفری بھی راولاکوٹ پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ مسلح جتھے جدید خودکار ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ خود ساختہ دھماکہ خیز مواد بھی استعمال کر رہے ہیں۔ تصادم کے دوران ریاست کا ایک اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہوا، جبکہ اطلاعات کے مطابق مسلح گروہ کا ایک کارندہ بھی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جدید ہتھیاروں اور بارود کا استعمال کالعدم کمیٹی کے نام نہاد پرامن بیانیے کی کھلی نفی ہے اور عوام کو یرغمال بنانے والے عناصر سے نجات دلانے اور امن کی بحالی کے لیے آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔

شاہراہوں کی کلیئرنس اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان

سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ اہم شاہراہوں، بالخصوص کوٹلی تا تراڑکھل شاہراہ کی بحالی کے لیے بلوچ بازار کے مقام پر کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ تمام شاہراہوں کی مکمل بحالی تک کارروائی جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ، مستقل امن کے قیام اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی انتشاری گروہ کو عوام کی زندگی، کاروبار، تعلیم اور صحت کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تعلیمی اداروں کو طلبہ کو احتجاج سے دور رکھنے کی ہدایت

سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ ریاستی احکامات کی خلاف ورزی یا طلبہ کو احتجاج میں شامل کرنے کی صورت میں متعلقہ اداروں اور انتظامیہ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ و طالبات کی جگہ درسگاہیں ہیں، احتجاجی دھرنے نہیں۔

انہوں نے کہاکہ راولاکوٹ کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے بیشتر اضلاع میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں، جبکہ تمام سرکاری و نجی ادارے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی اور دیگر علاقوں میں میڈیکل کالجز سمیت متعدد تعلیمی ادارے بھی دوبارہ کھول دیے گئے ہیں۔

انہوں نے راولاکوٹ کے عوام سے اپیل کی کہ کاروبار، تعلیمی اداروں اور ٹرانسپورٹ کی مکمل بحالی کے لیے انتشار پسند عناصر کو مسترد کرتے ہوئے ریاستی اداروں سے تعاون کریں۔

سمر کیمپس میں طلبہ کی بھرپور شرکت مثبت اشارہ قرار

سیکریٹری داخلہ نے کہاکہ مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، لیپہ، کیل اور دیگر علاقوں میں بورڈ کلاسز کے سمر کیمپس 13 جولائی سے باقاعدہ شروع ہو چکے ہیں، جن میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد میں شرکت نئی نسل کے تعلیم اور مثبت سرگرمیوں پر اعتماد کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہاکہ والدین، اساتذہ اور عوام کی خواہش ہے کہ بچوں کا مستقبل کتاب، قلم، تحقیق اور علم سے وابستہ ہو، نہ کہ احتجاج اور تصادم سے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نوجوان نسل کو تعلیم سے دور کر کے احتجاجی سیاست میں دھکیلنے کا نقصان پوری ریاست کو ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور ریاستی ادارے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ریاست بھر میں امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں اور بہت جلد آزاد جموں و کشمیر میں زندگی کے تمام شعبے مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے۔

کالعدم کمیٹی عوامی حمایت کھونے کے بعد طلبہ کو استعمال کر رہی ہے، سیکریٹری تعلیم

اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے کہاکہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی مسلسل گرتی ہوئی عوامی حمایت اور اپنے رہنماؤں کی لاتعلقی کے بعد نئی تشویشناک حکمت عملی اختیار کر چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عوامی تائید کھونے کے بعد کمیٹی خواتین، معصوم بچوں، طالبات اور طلبہ کو احتجاج میں آگے لا کر انسانی ڈھال بنانے کی کوشش کر رہی ہے، جو نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ان کی جان و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ طلبہ کے ہاتھوں سے قلم چھین کر انہیں احتجاجی سیاست کا ایندھن بنانا نئی نسل کے مستقبل سے کھلواڑ ہے۔

راولاکوٹ کے تعلیمی اداروں کے لیے ہنگامی ہدایات جاری

سیکرٹری تعلیم نے کہاکہ سنگین صورتحال کے پیش نظر محکمہ اعلیٰ تعلیم اور محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے راولاکوٹ کے تعلیمی اداروں کو ہنگامی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو طلبہ و طالبات کو ہر قسم کی احتجاجی سرگرمیوں سے دور رکھنے، والدین کو فوری طور پر صورتحال سے آگاہ کرنے، طلبہ کی حاضری اور نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھنے اور کسی بھی طالب علم کو احتجاج یا دھرنے کا حصہ نہ بننے دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک فوج ہماری ریڈلائن، ایکشن کمیٹی کو مضبوط کرنے میں سیاسی جماعتیں شریک جرم ہیں، نبیلہ ایوب

انہوں نے خدشہ ظاہر کیاکہ احتجاج کے دوران یونیفارم میں ملبوس طلبہ و طالبات کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے تمام تعلیمی اداروں کو اس حوالے سے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے، کوہالہ پل پر پرتپاک استقبال

راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ، سیکیورٹی اہلکار شہید، ایک زخمی

ڈیپ سیک کی نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش، مصنوعی ذہانت کی صلاحیت بڑھانے کا منصوبہ

دہشتگرد عناصر کو کسی صورت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا : سرفراز بگٹی

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ترکیہ میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں، عسکری اعزاز سے نواز دیا گیا

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم