اداکار اسامہ خان نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ ملک میں موجود اظہار رائے پر قدغن تخلیقی آزادی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اسامہ خان نے انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز صرف خاندانی نوعیت کے ڈراموں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ حقیقی واقعات، جرائم، سیاسی تھرلر اور ریاستی اداروں کی پیچیدگیوں پر مبنی کہانیوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ پلیٹ فارمز پاکستان کی ثقافتی خوبصورتی کو بھی اجاگر کریں گے، لیکن ان کا کاروباری ماڈل حقیقت پر مبنی اور غیر فلٹر شدہ کہانیوں کا متقاضی ہے۔
اداکار نے سوال اٹھایا کہ ایسے معاشرے میں، جہاں حکومت مسلسل پابندیوں کی پالیسی پر عمل پیرا ہو، کیا واقعی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کا خیر مقدم کرنے کے لیے ہم تیار ہیں؟
انہوں نے کہا کہ پاکستانی تخلیق کاروں کو برسوں سے مخصوص دائرے میں محدود رکھا گیا ہے اور جب بھی وہ سیاست، جرائم یا تاریخ جیسے موضوعات پر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں سخت سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میری شادی نہ ہونے کی ذمہ دار ندا یاسر ہیں، اداکار اسامہ خان
اسامہ خان کا کہنا تھا کہ جب تک پابندیوں کی اس ثقافت کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور فنکاروں کو معاشرے کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی آزادی نہیں دی جاتی، اس وقت تک پاکستان عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے کھلے ماحول میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
اداکار کا یہ بیان وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حکومت پاکستانی فلموں اور ڈراموں کو عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس پر لانے کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔
احسن اقبال نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کی دنیا بھر میں بے حد پذیرائی موجود ہے، جبکہ حکومت میڈیا برآمدات بڑھانے کے لیے پاکستان کا اپنا آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم بھی قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فائق خان کا مختلف اداکاروں پر تبصرہ، فیروز خان کو ناپسندیدہ قرار دے دیا
اس سے قبل معروف ہدایت کار مہرین جبار بھی خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ خطے کا ایک پڑوسی ملک اپنے سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے پاکستانی مواد کو عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر جگہ ملنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی پہلی نیٹ فلکس سیریز آئندہ ایک برس کے دوران منظر عام پر آجائے گی۔














