کراچی کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل برپا ہے کیوں کہ ایک جانب ایم کیو ایم پاکستان نے شہری سندھ کے حقوق کے تحفظ اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے مطالبے پر 26 جولائی سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب پارٹی کے رہنماؤں کے متضاد بیانات نئی سیاسی بحث کو ہوا دے رہے ہیں۔
حال ہی میں وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے ایک انکشاف نے بھی کراچی کی سیاسی فضا کو گرما دیا۔ ان کے مطابق سابق میئر کراچی وسیم اختر کو گورنر سندھ بنانے کی سفارش ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے خود کی تھی تاہم بعد میں انہوں نے وزیراعظم سے اس فیصلے پر عمل نہ کرنے کی درخواست بھی کی۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت اہم سیاسی فیصلوں پر ہمیشہ مکمل اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھتی دکھائی نہیں دیتی۔
دوسری جانب خالد مقبول صدیقی مسلسل پیپلز پارٹی پر سندھ کے اقتدار پر اجارہ داری قائم رکھنے، مہاجروں کے حقوق سلب کرنے اور کراچی پر ’مصنوعی قیادتیں‘ مسلط کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ تاہم ان بیانات کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر سے سامنے آنے والے مختلف مؤقف اور رہنماؤں کے بیانات نے خود ایم کیو ایم کی سیاسی حکمت عملی اور داخلی ہم آہنگی پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیے: خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان کی چیئرمین شپ کے مضبوط امیدوار کون ہیں؟
وی نیوز نے جب کراچی کے مختلف علاقوں میں شہریوں سے اس صورت حال پر رائے لی تو بیشتر افراد نے اسے شہری سندھ کے حقوق کی جدوجہد کے بجائے سیاسی طاقت اور اقتدار کی کشمکش قرار دیا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے رہنما ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں جبکہ شہر کے عوام آج بھی پانی کی قلت، بدترین ٹریفک، ٹوٹی سڑکوں، صفائی کے ناقص نظام اور دیگر بنیادی سہولتوں کے فقدان جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔
کئی شہریوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ ہر چند سال بعد کراچی کے حقوق اور مہاجر شناخت کے نعرے تو بلند کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر شہر کے دیرینہ مسائل جوں کے توں برقرار رہتے ہیں۔ ان کے بقول سیاسی جماعتیں عوامی مسائل کے پائیدار حل کے بجائے اقتدار کی سیاست میں زیادہ مصروف دکھائی دیتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، خالد مقبول اور مصطفیٰ کمال کیوں لڑ رہے ہیں؟
سیاسی مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر اپنے روایتی سیاسی بیانیے کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے تاہم پارٹی کے اندر اختلافِ رائے کی بازگشت بھی واضح طور پر سنائی دے رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مجوزہ احتجاجی تحریک واقعی شہری سندھ کے حقوق کے حصول کی کوشش ہے یا پھر یہ پارٹی کے اندر جاری اختلافات اور بدلتی سیاسی صف بندیوں کا اظہار ہے۔ اس سوال کا واضح جواب آنے والے دنوں کی سیاسی پیشرفت ہی دے سکے گی۔













