پاکستان میں بڑھتی ہوئی گرمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید گرمی اور پانی کی کمی سے متاثر ہونے والے پرندوں کو بچانے کے لیے اسلام آباد میں جنگلی حیات کے امدادی مرکز کی سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں۔
اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے زیر انتظام مارگلہ وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر میں جنگلی حیات کے اہلکار متاثرہ پرندوں کا طبی معائنہ، علاج اور دیکھ بھال کر رہے ہیں تاکہ صحت یاب ہونے کے بعد انہیں دوبارہ قدرتی ماحول میں چھوڑا جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: بحالی کے بعد 63 سمندری پرندے جدہ کے ساحل پر آزاد
جنگلی حیات کے اہلکار ظہیر احمد نے بتایا کہ گرمیوں کے دوران انہیں روزانہ مقامی شہریوں کی جانب سے جنگلی حیات، خصوصاً پرندوں کے حوالے سے 30 تک امدادی کالیں موصول ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ پرندوں کو فوری طبی امداد، خوراک اور پانی فراہم کرنا اولین ترجیح ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پرندوں کو صحت یاب ہونے تک قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے، جو بعض اوقات کئی ہفتوں پر محیط ہوتا ہے، اس کے بعد انہیں دوبارہ آزاد فضا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر سخاوت علی کے مطابق ماضی میں زخمی ہونے والے زیادہ تر پرندے پتنگ بازی کی ڈور سے متاثر ہوتے تھے، تاہم گزشتہ ایک دو برس کے دوران زیادہ تر ایسے پرندے لائے جا رہے ہیں جو شدید گرمی اور پانی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور چڑیا گھر میں 5 برس کے دوران 70 قیمتی جانور اور پرندے ہلاک ہونے کا انکشاف
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، نے 2025 میں 1960 کے بعد دوسرا گرم ترین سال ریکارڈ کیا، جبکہ رواں موسم گرما میں اسلام آباد کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرچکا ہے۔

مارگلہ وائلڈ لائف ریسکیو سینٹر اسی مقام پر قائم ہے جہاں کبھی اسلام آباد کا چڑیا گھر موجود تھا، جسے 2020 میں بند کر دیا گیا تھا۔ اب یہاں ملک بھر سے لائے جانے والے زخمی یا بیمار جنگلی جانوروں اور پرندوں کی بحالی کا کام کیا جاتا ہے۔
ظہیر احمد نے بتایا کہ شدید گرمی کے علاوہ جنگلات میں لگنے والی آگ بھی پرندوں کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ان کے گھونسلے جل جاتے ہیں بلکہ ان کا قدرتی مسکن بھی تباہ ہوجاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 600 سال قبل معدوم ہونے والے پرندے کو دوبارہ کرنے کے منصوبے کا آغاز
سخاوت علی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں، صحنوں اور چھتوں پر پرندوں کے لیے پانی کے برتن رکھیں تاکہ وہ گرمی کے موسم میں پانی پی سکیں، نہا سکیں اور اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھ سکیں۔

اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ اس بات کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا موسمیاتی تبدیلی پرندوں کی افزائش نسل اور خوراک کے ذرائع کو متاثر کر رہی ہے، کیونکہ اس سے مستقبل میں ان کی تعداد میں کمی کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔














