پاکستان کی معروف اداکارہ روبینہ اشرف نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، جہاں پہلے بچے ہر معاملے میں والدین سے رہنمائی لیتے تھے، اب والدین نئی ٹیکنالوجی سمجھنے کے لیے اپنی اولاد سے مدد مانگتے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں گفتگو کرتے ہوئے روبینہ اشرف نے کہا کہ پہلے وہ اپنی والدہ کو مختلف معاملات میں رہنمائی کے لیے فون کیا کرتی تھیں، لیکن اب کسی نئی ایپ، اکاؤنٹ بنانے یا پاس ورڈ سے متعلق مدد درکار ہو تو اپنے بچوں سے رجوع کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہر کام کے لیے گاڑی کیوں؟ روبینہ اشرف کی پاکستانیوں کو پیدل چلنے کی تلقین
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ان کی نسل کے لیے نئی چیزیں ہیں، جبکہ آج کے بچوں کے لیے یہ معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔
روبینہ اشرف کا کہنا تھا کہ اس تبدیلی کو بچوں کے لیے یہ سبق ہونا چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ زیادہ صبر، احترام اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں کیونکہ وہ ایک تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اداکارہ نے وینس کے سفر کا ایک واقعہ بھی سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ نہر میں گونڈولا کشتی کی سیر کرتے ہوئے گانا گائیں اور اس لمحے کی ویڈیو بنائیں، مگر ان کی بیٹی نے اسے ‘شرمندگی کا باعث’ قرار دیا، جس سے انہیں دکھ پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: پیسہ بنانے اور بچانے کے لیے اداکارہ روبینہ اشرف نے کیا طریقہ اپنایا؟
انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے زیادہ انہیں اس بات نے تکلیف دی کہ آج کل بچے اکثر والدین کے کیمرہ آن کرتے ہی اپنا چہرہ چھپانے لگتے ہیں، حالانکہ والدین صرف خوبصورت یادیں محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔
گفتگو کے دوران روبینہ اشرف نے خاندانی اقدار پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین اپنی پوری زندگی بچوں کی پرورش میں صرف کر دیتے ہیں، اس لیے بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ احترام، محبت اور احساس کے ساتھ پیش آئیں۔
انہوں نے بچوں کی شادی کے حوالے سے کہا کہ زندگی میں کوئی فیصلہ مکمل طور پر درست یا غلط نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق بچوں کے لیے شریکِ حیات کے انتخاب میں حالات کے مطابق فیصلے کرنا اور وقت کے ساتھ خود کو ڈھالنا ضروری ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈراما سیریل حسرت کی آخری قسط، ناظرین و شائقین کا ردعمل کیا ہے؟
روبینہ اشرف نے کہا کہ والدین اور بچوں کے ہر رشتے کی بنیاد ہمدردی ہونی چاہیے، اور بچوں کو کوئی بھی بات کہنے یا قدم اٹھانے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کہیں اس سے ان کے والدین کے دل کو ٹھیس تو نہیں پہنچے گی۔














