حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی یا آزاد جموں و کشمیر حکومت کا کبھی بھی مظاہرین کو ڈرانے، دھمکانے یا ان پر تشدد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، بلکہ حکومت نے ہر مرحلے پر مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اب تک ہونے والے تمام احتجاجی مظاہروں میں تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، اکتوبر 2025 کے لانگ مارچ کے دوران مجموعی طور پر 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں 8 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی طلبہ کو ڈھال بنانا چاہتی ہے، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی، آزاد کشمیر حکومت

’پولیس نہتی تھی، تشدد کرنا مقصود ہوتا تو مسلح بھیجا جاتا‘

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ گزشتہ سال اکتوبر کے لانگ مارچ میں مظاہرین کو روکنے کے لیے تعینات پولیس کے پاس کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا مقصد مظاہرین کو ڈرانا، دھمکانا یا طاقت کا استعمال کرنا ہوتا تو پولیس کو نہتے بھیجنے کے بجائے مسلح کرکے روانہ کیا جاتا۔

انہوں نے کہاکہ ایکشن کمیٹی کے لوگوں کی جانب سے راولاکوٹ میں مقامی پولیس اہلکاروں کی وردیاں اتاری گئیں اور لاشوں کی بے حرمتی بھی کی گئی۔

مہاجرین کی 12 نشستوں کا معاملہ آئینی ہے

وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت نے مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کیے اور مسلسل مذاکرات کا راستہ اختیار کیا، تاہم مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کا معاملہ ایک آئینی مسئلہ ہے۔

انہوں نے واضح کیاکہ آئینی ترمیم کا اختیار صرف قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے اور کسی ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے ان نشستوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہاکہ نہ وہ خود، نہ رانا ثنااللہ اور نہ ہی وزیراعظم پاکستان اپنے کسی حکم نامے کے ذریعے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

اسمبلی میں جائیں، آئینی راستہ اختیار کریں

انہوں نے کہاکہ مہاجرین کی نشستوں کا خاتمہ انہیں حقِ رائے دہی اور حقِ خودارادیت سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا، اس لیے کشمیریوں کو ان کے بنیادی سیاسی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: پاک فوج ہماری ریڈلائن، ایکشن کمیٹی کو مضبوط کرنے میں سیاسی جماعتیں شریک جرم ہیں، نبیلہ ایوب

انہوں نے کہاکہ اگر مظاہرین کو عوامی حمایت حاصل ہے تو انہیں سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بجائے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ مسائل کا مستقل حل احتجاج یا دھرنوں میں نہیں بلکہ اسمبلی کے اندر جا کر آئینی ترمیم اور جمہوری عمل کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟