میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

منگل 14 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میٹا پلیٹ فارمز کے 26 ملازمین نے کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ برطرفیوں کے دوران مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام استعمال کیے گئے، جنہوں نے معذور افراد یا طبی رخصت لینے والے ملازمین کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقدمہ پیر کو امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر اوکلینڈ کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اس سال ہزاروں ملازمین کی برطرفی کے فیصلوں میں پیداواری کارکردگی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار کو بنیاد بنایا، جس سے وہ ملازمین متاثر ہوئے جو بیماری، معذوری یا اہل خانہ کی دیکھ بھال کے باعث کام سے غیر حاضر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنی انسٹاگرام تصاویر کو میٹا کے اے آئی سے بچانا چاہتے ہیں؟ صرف ایک سیٹنگ تبدیل کرکے خود کو محفوظ بنائیں

مقدمے میں شامل ملازمین کو مئی میں اطلاع دی گئی تھی کہ ان کی ملازمتیں 22 جولائی سے ختم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک برطرفیوں کا عمل روک دیا جائے۔

میٹا کے ترجمان نے منگل کو الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افرادی قوت کے انتظام اور تنظیمی فیصلے انسان کرتے ہیں، مصنوعی ذہانت نہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ امریکا کی کسی بڑی کمپنی کے خلاف ایسا پہلا مقدمہ ہو سکتا ہے جس میں برطرفیوں کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے مبینہ استعمال کو چیلنج کیا گیا ہو۔

میٹا نے مئی میں اپنی عالمی افرادی قوت کا تقریباً 10 فیصد، یعنی لگ بھگ 8 ہزار ملازمین کم کیے تھے۔ بعد ازاں کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ رواں سال مزید کمپنی گیر برطرفیوں کا ارادہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا نے نیا اے آئی ٹول ’میوز امیج‘ متعارف کرا دیا، انسٹاگرام پوسٹس سے نئی تصاویر بنائی جاسکیں گی

درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ کمپنی نے وفاقی اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی، جو معذوری، طبی رخصت یا حمل کی بنیاد پر ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک سے منع کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ میٹا نے اپنے مصنوعی ذہانت کے نظاموں میں ممکنہ جانبداری کی جانچ نہیں کی، حالانکہ اس حوالے سے کیلیفورنیا اور نیویارک شہر میں نئے قوانین نافذ ہو چکے ہیں۔

مقدمے کے مطابق میٹا نے ملازمین کی درجہ بندی اور برطرفی کی فہرست تیار کرنے کے لیے کئی اندرونی مصنوعی ذہانت سے معاون نظام استعمال کیے، جن میں ایک بڑا زبان ماڈل معاون، ملازمین کے رابطوں اور دستاویزات کا تجزیہ کرنے والا نظام، اور ایسا پیداواری اسکور شامل تھا جو کی بورڈ کے استعمال، اسکرین کے مواد، ای میلز اور براؤزر کی سرگرمی کا جائزہ لے کر تیار کیا جاتا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟