فیفا ورلڈ کپ 2026 میں ارجنٹینا کے حق میں ہونے والے متعدد متنازع ریفری فیصلوں کے بعد دنیا بھر میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ آیا عالمی فٹبال تنظیم (فیفا) دفاعی چیمپئن ارجنٹینا کو غیر معمولی رعایت دے رہی ہے یا یہ محض شائقین کا تاثر ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹینا کے کئی میچوں میں ریفری اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کے فیصلوں نے مخالف ٹیموں، سابق کھلاڑیوں اور فٹبال مبصرین کو سوالات اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ تاہم فیفا نے اب تک کسی بھی قسم کی جانبداری کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود ارلنگ ہالینڈ کی منفرد شخصیت کی دھوم
پہلا تنازع: میسی کا ٹیکل اور ریڈ کارڈ نہ ملنا
ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں الجزائر کے خلاف میچ کے دوران لیونل میسی نے عیسیٰ ماندی کے ٹخنے پر اسٹڈز کے ساتھ خطرناک ٹیکل کیا۔ کئی سابق ریفریز اور ماہرین کے مطابق یہ حرکت براہ راست ریڈ کارڈ کی مستحق تھی مگر آن فیلڈ ریفری نے کوئی کارڈ نہیں دکھایا جبکہ وی اے آر نے بھی مداخلت نہیں کی۔
بعد ازاں فیفا نے مبینہ طور پر تسلیم کیا کہ وی اے آر حکام سے اس موقع پر غلطی ہوئی تھی، جس کے بعد شائقین نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی حرکت کسی اور کھلاڑی نے کی ہوتی تو کیا فیصلہ مختلف ہوتا؟
دوسرا تنازع: مصر کا مسترد کیا گیا گول اور پنالٹی نہ ملنا
راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا اور مصر کے درمیان کھیلے گئے سنسنی خیز مقابلے نے سب سے زیادہ تنازع پیدا کیا۔ میچ کے دوران مصر کا ایک گول وی اے آر کے ذریعے مسترد کر دیا گیا جبکہ محمد صلاح پر مبینہ فاؤل کے باوجود پنالٹی نہیں دی گئی۔ چند ہی لمحوں بعد ارجنٹینا نے فیصلہ کن گول کر کے کامیابی حاصل کر لی۔
مصری فٹبال فیڈریشن نے ان فیصلوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فیفا سے باضابطہ شکایت بھی درج کرائی جبکہ مصر کے کوچ حسام حسن نے ریفری کے فیصلوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
تیسرا تنازع: کیپ ورڈے کے خلاف نئے قانون کا استعمال
کیپ ورڈے کے خلاف میچ میں ارجنٹینا کے دفاعی کھلاڑی نیکولس ٹیگلیافیکو زخمی ہونے کے بعد میدان سے باہر گئے۔ فیفا کے نئے قوانین کے مطابق علاج کے بعد کھلاڑی کو کچھ دیر تک میدان سے باہر رہنا چاہیے تاہم ریفری نے کارنر کک لینے سے پہلے ان کی واپسی کا انتظار کیا۔
اس فیصلے پر ناقدین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی صورتحال کسی دوسری ٹیم کے ساتھ پیش آتی تو شاید قانون پر سختی سے عمل کیا جاتا۔ دوسری جانب قوانین کے حامیوں کا مؤقف تھا کہ ریفری کو مخصوص حالات میں کھیل کے بہاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے صوابدیدی اختیار حاصل ہوتا ہے۔
چوتھا تنازع: سوئٹزرلینڈ کے خلاف وی اے آر سے ریڈ کارڈ
کوارٹر فائنل میں سوئٹزرلینڈ کے اسٹرائیکر بریل ایمبولو کو ابتدا میں ارجنٹینا کے لیانڈرو پاریدیس کے خلاف فاؤل پر زرد کارڈ دیا گیا لیکن وی اے آر جائزے کے بعد فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے ایمبولو کو ڈائیونگ کا مرتکب قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے
چونکہ ایمبولو پہلے ہی ایک زرد کارڈ لے چکے تھے اس لیے انہیں دوسرا پیلا کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔
یہ فیفا کے نئے وی اے آر قوانین کے تحت زرد کارڈ سے متعلق مداخلت کی نمایاں مثال تھی، جس پر سوئس کھلاڑیوں اور شائقین نے شدید ردعمل دیا جبکہ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ارجنٹینا کو فائدہ پہنچانے کے الزامات سامنے آئے۔
قوانین کیا کہتے ہیں؟
فٹبال قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی فیصلے ریفری کی صوابدید اور وی اے آر کی تشریح پر منحصر تھے۔ بعض فیصلے متنازع ضرور تھے لیکن صرف اختلاف کی بنیاد پر انہیں قوانین کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی لیے فی الحال یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ارجنٹینا کو جان بوجھ کر فائدہ پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں نیا حیران کن منفرد ریکارڈ کیا ہے؟
اگرچہ ارجنٹینا کے حق میں ہونے والے متعدد متنازع فیصلوں نے شائقین میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، تاہم اب تک کوئی ایسا ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ فیفا یا میچ آفیشلز نے دانستہ طور پر ارجنٹینا کو فائدہ پہنچایا۔ اس کے باوجود وی اے آر کے استعمال اور ریفری کے فیصلے ورلڈ کپ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوعات میں شامل ہو چکے ہیں۔














