وفاقی آئینی عدالت نے حارث اسٹیل مل ریفرنس ختم کرنے کے خلاف دائر کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے کی ہدایت کردی۔
کیس کی سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔
دورانِ سماعت بینک کے وکیل خواجہ حارث نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کیس میں جعلی دستاویزات اور جعلی شناختی کارڈز کی بنیاد پر قرضے حاصل کیے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایسی کہانیاں تو فلموں میں ہوتی ہیں‘، آئینی عدالت نے جنسی زیادتی کی شکار خاتون کی درخواست خارج کر دی
انہوں نے کہا کہ یہ فراڈ لون کی صورت میں کیا گیا اور اس میں بینک آف پنجاب کے بعض افسران بھی شامل تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس مقدمے میں بنیادی نکتہ نیب کے ریفرنس ختم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ہے۔
مزید پڑھیں: نئی گاج ڈیم پر 62 ارب خرچ، کام 50 فیصد بھی مکمل نہیں، واپڈا کا آئینی عدالت میں اعتراف
انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا نیب کے ریفرنس ختم کرنے کے فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ادارہ اس مقدمے میں کچھ اضافی دستاویزات جمع کروانا چاہتا ہے۔
دوسری جانب بینک کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مقدمہ ختم ہونے کے بعد بینک گارنٹی واپس لینے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، اس لیے عدالت حتمی فیصلے تک حکمِ امتناع جاری کرے۔
مزید پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
وفاقی آئینی عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کو آئندہ سماعت تک اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
کیس کی مزید سماعت عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی گئی ہیں۔














