بینظیر انکم سپورٹ پروگرام: کھربوں روپے کے اخراجات اور غربت میں اضافہ، جامع اصلاحات اور عارضی بریک کی ضرورت

جمعرات 16 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا منصوبہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) 2008 میں غریب ترین خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، تاہم 17 برسوں کے دوران اس کے اخراجات 34 ارب روپے سے بڑھ کر 716 ارب روپے سالانہ تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ مجموعی اخراجات 3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ دوسری جانب ملک میں غربت کی شرح کم ہونے کے بجائے تقریباً 22 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک جا پہنچی ہے، جس کے باعث ماہرین پروگرام کی موجودہ ساخت، شفافیت اور مؤثریت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہوئے جامع اصلاحات اور پروگرام کی مزید توسیع پر عارضی بریک لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا پروگرام، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) جولائی 2008 میں 34 ارب روپے کی ابتدائی تخصیص کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد غریب ترین خاندانوں کو شدید غربت کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے براہ راست نقد رقم کی فراہمی تھا۔ اپنے پہلے ہی سال میں اس پروگرام نے 1.76 ملین خاندانوں تک رسائی حاصل کی، لیکن اپنے آغاز ہی سے یہ ایک بنیادی اور سنگین نقائص کا شکار رہا۔ اس پروگرام کے تحت مستحقین کا انتخاب ارکانِ پارلیمنٹ کے ذریعے کیا گیا جہاں ہر حلقے کو 8 ہزار فارمز دیے گئے۔ اس طریقہ کار نے پہلے دن سے ہی اس اقدام کو سیاسی بنا دیا اور پسند و ناپسند کو فروغ دے کر شفافیت کے عمل کو نقصان پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کی غُربت دور کر پا رہا ہے؟

وقت کے ساتھ ساتھ بی آئی ایس پی کے دائرہ کار میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوتا چلا گیا۔ مالی سال 25-2024 تک اس کے کل اخراجات 592.383 ارب روپے تک جا پہنچے، جس میں سے 470.025 ارب روپے بنیادی ’بینظیر کفالت پروگرام‘ کے لیے مختص کیے گئے جو 10.19 ملین خاندانوں کو خدمات فراہم کر رہا تھا۔ مالی سال 25-2024 کے لیے اس کی تخصیص مزید 20 فیصد اضافے کے ساتھ 716 ارب روپے تک بڑھا دی گئی ہے۔

پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی اخراجات 3 ٹریلین روپے سے تجاوز کر چکے ہیں، جس میں سے صرف مارچ 2025 تک 2.61 ٹریلین روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں جبکہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران 2.5 ٹریلین روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔ یوں جو اقدام ایک معتدل تحفظ کا ذریعہ بن کر شروع ہوا تھا، وہ اب پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی بوجھ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

اس تمام تر خطیر رقم کے خرچ ہونے کے باوجود بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملک میں غربت کم ہوئی ہے؟ تاہم حقائق اس کے برعکس کہانی بیان کرتے ہیں، کیونکہ پاکستان میں غربت کی شرح تقریباً 22 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد تک پہنچ چکی ہے جس سے مزید 20 ملین شہری خطِ غربت سے نیچے چلے گئے ہیں۔ دوسری جانب حیران کن طور پر بی آئی ایس پی کے مستحقین کی تعداد 1.76 ملین سے بڑھ کر 10.19 ملین خاندانوں تک پہنچ گئی ہے۔

ایک کامیاب غربت مٹاؤ پروگرام کا بنیادی مقصد وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کا انحصار کم کرنا ہوتا ہے، مگر اس کے برعکس بی آئی ایس پی کی فہرستیں مسلسل طویل ہو رہی ہیں۔ فی الوقت ہر 3 ماہ بعد دی جانے والی 13,500 روپے کی قسط فی خاندان روزانہ کی بنیاد پر صرف 150 روپے بنتی ہے، جو مختصر مدت میں محض زندہ رہنے کے لیے تو کافی ہو سکتی ہے لیکن ہنر، ملازمت، کاروبار، رہائش، تعلیم یا صحت تک رسائی فراہم کر کے غربت کے چکر کو توڑنے کے لیے بالکل ناکافی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پروگرام ایک منفی اور غلط ترغیبی فریم ورک پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے، جہاں جو خاندان محنت کر کے موٹر سائیکل خرید کر، چھوٹا کاروبار شروع کر کے یا باقاعدہ ملازمت حاصل کر کے اپنے حالات بہتر بناتے ہیں، ان کے اس پروگرام سے خارج ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یوں یہ تحفظ کا ذریعہ بننے کے بجائے ایک جال بن چکا ہے جو لوگوں کو ترقی کرنے سے روکتا اور نظام میں آگے بڑھنے کی کوشش پر سزا دیتا ہے۔ کسی واضح اور پائیدار خروج کی حکمتِ عملی  کی عدم موجودگی میں نقد رقم کی یہ فراہمی خودانحصاری اور بااختیار بنانے کے بجائے طویل مدتی محتاجی کو جنم دے رہی ہے۔

آزادانہ آڈٹس نے اس پروگرام کے گورننس سسٹمز میں شدید خامیوں کی نشان دہی کی ہے، جن کے مطابق شمولیت کی غلطی 6.8 فیصد اور اخراج کی غلطی 13.27 فیصد ہے، جو قابلِ قبول حدود سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ 6 لاکھ ایک ہزار 850 کیسز شوہر اور بیوی کے شناختی کارڈز کی غلطیوں پر مبنی ہیں، جبکہ 97 ہزار 179 کیسز ایسے ہیں جہاں ایک ہی شناختی نمبر پر متعدد پی ایم ٹی اسکورز موجود ہیں۔ نیز 515.7 ملین روپے ایسے سرکاری ملازمین، پنشنرز، ان کے شریک حیات، گاڑیوں کے مالکان اور بیرونِ ملک سفر کی ہسٹری رکھنے والے افراد کو ادا کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن کرنے والا بڑا نیٹ ورک بے نقاب، بڑے افسر کا نام سامنے آگیا

صرف مالی سال 24-2023 کے دوران آڈٹ نے 141 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، جبکہ 3 سال کے عرصے میں 96 ارب روپے نااہل افراد کو ادا کیے گئے۔ ان کے علاوہ ریٹیلرز اور اہلکاروں کی جانب سے مستحقین سے رقم کی کٹوتی، ’گریجویشن پروگرامز‘ میں 1.794 ارب روپے کا غیر استعمال شدہ پڑا رہنا، اور 2018 سے اب تک 971 ملین روپے کا غیر منتقلی اور لاوارث رہنا اس نظام کی ہدف بندی، تصدیق اور تقسیم کے شدید نظاماتی نقائص کو ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 3 ٹریلین روپے کی اس خطیر رقم کے ضیاع کا موقعی نقصان بھی انتہائی بڑا ہے۔ اگر 5 ہزار روپے کے نوٹوں میں 3 ٹریلین روپے کو ایک کے اوپر ایک رکھا جائے تو یہ تقریباً 60 کلومیٹر بلند مینار بنے گا، جو ماؤنٹ ایورسٹ سے تقریباً 7 گنا بلند ہوگا، جبکہ اس کا وزن 600 ٹن یا 120 بھرے ہوئے ٹرکوں کے برابر ہوگا۔ اگر فی سیکنڈ ایک نوٹ گنا جائے تو اس رقم کو گننے میں تقریباً 19 سال لگ جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اسی رقم سے تقریباً 85 ہزار پرائمری اسکول، 1,500 ڈسٹرکٹ اسپتال، ڈیڑھ لاکھ چھوٹے کارخانے، ایک کروڑ کم لاگت مکانات تعمیر کیے جا سکتے تھے یا 65 لاکھ چھوٹے کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کی جا سکتی تھی، جس سے پائیدار روزگار اور معاشی ترقی ممکن تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی آئی ایس پی کے اخراجات 09-2008 کے 34 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 716 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو تقریباً 21 گنا اضافہ ہے۔ سالانہ 19 سے 20 فیصد کی یہ شرح نمو افراطِ زر، جی ڈی پی اور قومی آمدنی کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر بغیر اصلاحات کے یہی رجحان جاری رہا تو خدشہ ہے کہ 2040 تک بی آئی ایس پی کا سالانہ بجٹ 9 ٹریلین روپے سے تجاوز کر جائے گا، جس سے تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بی آئی ایس پی کے بڑھتے ہوئے حجم کو اگرچہ کامیابی قرار دیا جاتا ہے، تاہم بغیر مؤثر کنٹرول اور شفافیت کے اس کا پھیلاؤ کرپشن، انحصار اور قومی خزانے پر بوجھ کا سبب بن رہا ہے۔ موجودہ نظام میں درست ہدف بندی، شفاف ادائیگی، سخت آڈٹ، منصفانہ تقسیم اور غربت سے مستقل نجات کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ غریبوں کی امداد ختم کرنے کے بجائے پروگرام کی مزید توسیع پر فوری طور پر ایک ’ہارڈ پاز‘ لگایا جائے تاکہ جامع اصلاحات کی جا سکیں۔ اس کے تحت مستحقین کے ڈیٹا بیس کی مکمل تطہیر، نااہل افراد کو فہرست سے خارج کر کے ناجائز ادائیگیوں کی وصولی، آڈٹ نظام کو مضبوط بنانا، سیاسی مداخلت اور کرپشن کا خاتمہ اور مستحق خاندانوں کے لیے واضح ایگزٹ اسٹریٹیجی متعارف کرائی جائے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مستقبل کے وسائل کو فنی تربیت، ہنر مندی کے مراکز، بلا سود مائیکرو فنانس، چھوٹی صنعتوں، کم لاگت رہائش، اسکولوں اور بنیادی صحت کے مراکز جیسے پائیدار منصوبوں پر خرچ کیا جائے، جبکہ نقد امداد صرف ان افراد تک محدود رکھی جائے جو واقعی کام کرنے سے معذور ہوں، جیسے بے سہارا بزرگ، شدید معذور افراد اور مستحق بیوائیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے غریب شہری صرف وقتی مالی امداد نہیں بلکہ خودانحصاری کے مواقع کے مستحق ہیں، اور بی آئی ایس پی میں اصلاحات ہی غربت کے پائیدار خاتمے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہوں، بلاول بھٹو

وفاقی حکومت کا حجم کم کرنے کا عمل تیز، غیر ضروری آسامیوں اور اداروں کے خاتمے پر زور

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

پاکستان، امریکا تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے، اسحاق ڈار

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہوں، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی