سرکاری اسپتال میں 120 سے زائد ایچ آئی وی کیسز، 6 بچوں کی اموات، 37 اہلکاروں کے خلاف کارروائی اور اب صوبائی وزیر سعید غنی کا یہ بیان کہ اگر انہیں عہدے سے ہٹانا ہی مسئلے کا واحد حل ہے تو وہ خود پارٹی قیادت سے اپنی تبدیلی کے لیے بات کریں گے۔ ولیکا اسپتال سے جڑے اس اسکینڈل نے نہ صرف سندھ حکومت کی کارکردگی بلکہ سیاسی اور انتظامی ذمہ داری کے سوال کو بھی ایک بار پھر بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔
کراچی کے کلسوم بائی ولیکا اسپتال سے سامنے آنے والے ایچ آئی وی کیسز کے معاملے پر وزیرِ محنت سندھ سعید غنی نے وائرس کے پھیلاؤ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز: 37 ملازمین معطل، 10 کو شوکاز نوٹس
سعید غنی کے مطابق اب تک 10 ہزار 500 سے زائد افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جن میں 120 افراد ایچ آئی وی پازیٹو پائے گئے ہیں۔ متاثرین میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جبکہ اب تک چھ بچوں کی اموات بھی ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسکریننگ کا دائرہ بڑھانے کے بعد لانڈھی میں مزید نو کیسز سامنے آئے ہیں۔
وزیرِ محنت کے مطابق تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ولیکا اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، عملے اور دیگر متعلقہ افراد سمیت 37 اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ دو سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹس بھی کارروائی کی زد میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
تاہم اس تمام پیش رفت کے باوجود عوامی اور سیاسی حلقوں میں ایک اہم سوال بدستور موجود ہے کہ اگر ایک سرکاری اسپتال میں مبینہ غفلت کے باعث اتنے بڑے پیمانے پر ایچ آئی وی پھیلا، معصوم بچے متاثر ہوئے اور متعدد جانیں ضائع ہوئیں، تو کیا صرف ماتحت عملہ ہی ذمہ دار ہے یا پھر نظام کی نگرانی کرنے والی سیاسی قیادت کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے؟
یہ بھی پڑھیں: ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے والدین کی آب بیتی، علاج بھی ادھورا، سہولیات بھی ناکافی
سعید غنی کے حالیہ بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور عوامی حلقوں میں بحث نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد صرف نچلے درجے کے عملے کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ اعلیٰ حکام اور متعلقہ وزرا کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب کچھ افراد کا مؤقف ہے کہ استعفیٰ مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اصل ذمہ داروں کی نشاندہی اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی زیادہ اہم ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
کئی شہریوں نے سعید غنی کے بیان کو ذمہ داری قبول کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تمام فیصلے تحقیقات اور شواہد کی بنیاد پر ہونے چاہییں، جبکہ بعض حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے سیاسی سطح پر بھی جوابدہی کا تعین کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، ولیکا اسپتال میں درجنوں بچوں میں ’ایچ آئی وی‘ کا انکشاف، سندھ ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی
واضح رہے کہ سعید غنی نے استعفیٰ دینے کا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی سندھ حکومت کی جانب سے انہیں عہدے سے ہٹانے کا کوئی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ البتہ ان کے اس بیان نے یہ سوال ضرور کھڑا کر دیا ہے کہ آیا اس سانحے میں صرف انتظامی کارروائیاں کافی ہوں گی یا پھر سیاسی سطح پر بھی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
اب نظریں جاری تحقیقات اور ان نتائج پر ہیں جو یہ طے کریں گے کہ اس معاملے میں اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور کیا اس کیس میں انتظامی کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی جوابدہی بھی طے کی جائے گی۔










