کراچی کے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے اہلخانہ نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مبینہ غفلت اور طبی عملے کی لاپرواہی نے درجنوں خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ گزشتہ سال ستمبر اور اکتوبر سے چل رہا ہے، لیکن حکام اس وقت متحرک ہوئے جب کیس سندھ ہائی کورٹ پہنچا۔
وی نیوز نے اسپتال کا دورہ کیا اور متاثرہ بچوں کے والدین سے گفتگو کی۔ متعدد والدین نے دعویٰ کیا کہ اسپتال میں مبینہ طور پر سرنجوں کے غیر محفوظ استعمال اور دیگر طبی غفلت کے باعث ان کے بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے۔ تاہم اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور حتمی ذمہ داری کا تعین سرکاری انکوائری کے بعد ہی ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی، ولیکا اسپتال میں درجنوں بچوں میں ’ایچ آئی وی‘ کا انکشاف، سندھ ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرلی
متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ہزاروں گز پر مشتمل عمارت ہونے کے باوجود ایچ آئی وی کے مریض بچوں کے لیے صرف 12 بستروں پر مشتمل ایک آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے، جو ان کے بقول ضرورت کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔ والدین نے الزام لگایا کہ اکثر بچوں کو دوائیں لینے کے لیے بلایا جاتا ہے، لیکن وہاں جا کر بتایا جاتا ہے کہ ادویات دستیاب نہیں ہیں، جبکہ بعض مریضوں کو نجی اسپتالوں سے علاج کرانے کا مشورہ دیا جاتا ہے، جس کے اخراجات غریب خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہیں۔
والدین نے مزید دعویٰ کیا کہ اسپتال میں بار بار ڈاکٹروں اور دیگر عملے کو معطل کیا جا رہا ہے، جس کے باعث علاج کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق حال ہی میں 37 ملازمین کو بھی ہٹا دیا گیا، جس کے بعد کئی شعبوں میں عملہ نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ڈاکٹر اور اسٹاف ہی موجود نہیں ہوگا تو ہمارے بچوں کا علاج کون کرے گا؟‘
یہ بھی پڑھیں: جناح اسپتال کراچی، ممنوعہ ادویات کی خریداری کا معاملہ، ایف آئی اے کا نوٹس
متاثرہ خاندانوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ دو سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹس کو عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے، تاہم ان کے بقول وہ اب بھی اسپتال کے رہائشی حصے میں موجود ہیں۔ والدین نے مطالبہ کیا کہ صرف معطلیاں کافی نہیں بلکہ اگر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
دوسری جانب سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ وزیر محنت سعید غنی کے مطابق اب تک 78 بچوں کا ریکارڈ سامنے آ چکا ہے، انکوائری کمیٹیاں کام کر رہی ہیں، اور اگر کسی ڈاکٹر، افسر یا پیرا میڈیکل اسٹاف کی غفلت ثابت ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کے علاج اور ان کے اہل خانہ کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔













