وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امریکا میں بوئنگ کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بیڑے میں 16 نئے طیارے شامل کرنے کے منصوبے پر اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری مکمل، نئی انتظامیہ کا روڈ میپ کیا ہے؟
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محسن نقوی نے بوئنگ کے عالمی صدر برینڈن نیلسن سے ملاقات کی جس میں پی آئی اے کی نئی انتظامیہ کا وفد بھی ان کے ہمراہ موجود تھا۔
ملاقات کے دوران پی آئی اے کے لیے 16 نئے طیاروں کے حصول کے منصوبے پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا اور طیاروں کی خریداری کے لیے دستیاب بہترین آپشنز پر غور کیا گیا۔
بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پی آئی اے کے لیے موزوں ترین معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے برینڈن نیلسن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے لیے نئے طیاروں کی خریداری کے عمل کو تیز کرنے کے حوالے سے بوئنگ کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی قابل قدر ہے۔
مزید پڑھیے: 2022 تا 2024: پی آئی اے کتنے خسارے میں رہی، دیگر ایئر لائنز کتنا منافع کماتی رہیں؟
انہوں نے عالمی ہوا بازی اور طیارہ سازی کی صنعت میں بوئنگ کے اہم کردار کو بھی سراہا۔
واشنگٹن،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا بوئنگ کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ
اس موقع پر پی آئی اے کی نئی مینجمنٹ کا وفد بھی شامل تھا
وزیر داخلہ محسن نقوی کی بوئنگ گلوبل کے صدر برینڈن نیلسن سے ملاقات
ملاقات میں پی آئی اے کے لئے 16 نئے طیاروں کی خریداری کے لئے اہم پیش رفت pic.twitter.com/Tjh9pJuNjR— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) July 16, 2026
واضح رہے کہ محسن نقوی 9 جولائی کو امریکا پہنچے تھے، جہاں پاکستان اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافے اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا۔
اس سے قبل محسن نقوی نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان اور امریکا کے درمیان براہ راست فضائی پروازوں کا جلد آغاز چاہتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور تعاون پر استوار ہیں۔
پی آئی اے کی نجکاری کے بعد توسیعی منصوبہ
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کا انتظامی کنٹرول باضابطہ طور پر عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے ساتھ ہی قومی ایئرلائن کی نجکاری کا عمل مکمل ہوگیا۔
مزید پڑھیں: 6 سال بعد پی آئی اے کا لندن کا فضائی آپریشن بحال، فرسٹ آفیسر فرح حسین کی لندن سے لاہور تاریخی پرواز
گزشتہ سال دسمبر میں حکومت نے پی آئی اے کے 75 فیصد حصص تقریباً 10.1 ارب روپے نقد کے عوض عارف حبیب کی قیادت میں قائم کنسورشیم کو فروخت کیے تھے جو تقریباً 2 دہائیوں کے بعد پاکستان کی پہلی بڑی نجکاری قرار دی گئی۔
پی آئی اے اور بوئنگ کا 6 دہائیوں پر محیط تعلق
پی آئی اے اور بوئنگ کے درمیان تعلقات کی تاریخ 6 دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے اور اس شراکت داری نے پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
1960 میں پی آئی اے ایشیا کی پہلی ایئرلائن بنی جس نے بوئنگ 707 کو باقاعدہ کمرشل سروس میں شامل کیا جس سے بین الاقوامی فضائی سفر میں نئی راہیں کھلیں۔
یہ بھی پڑھیے: پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل ہونا نئے دور کا آغاز، معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا، وزیراعظم شہباز شریف
بعد ازاں 1979 میں بوئنگ 747 کی شمولیت سے پی آئی اے نے اپنی گنجائش میں اضافہ کیا اور یورپ، شمالی امریکا اور مشرق وسطیٰ تک اپنے طویل فاصلے کے فضائی نیٹ ورک کو وسعت دی۔
سنہ 1980 اور سنہ 1990 کی دہائیوں میں پی آئی اے نے اندرون ملک اور علاقائی پروازوں کے لیے بوئنگ 737 کے مختلف ماڈلز استعمال کیے، جبکہ بین الاقوامی روٹس پر بوئنگ 747 اس کے بیڑے کا اہم حصہ رہا۔
سنہ 2004 میں پی آئی اے بوئنگ 777-200 ایل آر کی پہلی خریدار ایئرلائن بنی جس کے بعد 777-200 ای آر اور 777-300 ای آر طیارے بھی بیڑے میں شامل کیے گئے۔ ان جدید طیاروں نے پرانے بوئنگ 747 کی جگہ لی اور آج بھی پی آئی اے کی طویل فاصلے کی بین الاقوامی پروازوں کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ریٹائرڈ ملازمین کے حوالے سے بڑا فیصلہ سامنے آگیا
فی الحال بوئنگ 777 پی آئی اے کے بین الاقوامی فضائی آپریشنز کا مرکزی طیارہ ہے جو پاکستان کو یورپ، شمالی امریکا، خلیجی ممالک اور مشرقی ایشیا سے ملاتا ہے۔














