فیفا ورلڈ کپ 2026 میں فرانس اور انگلینڈ ہفتے کے روز تیسری پوزیشن کے پلے آف میچ (برونز فائنل) میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔ سیمی فائنل میں شکست کے بعد دونوں ٹیموں کے لیے یہ ٹورنامنٹ کا آخری میچ ہو گا، جو میامی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
برونز فائنل‘ کیوں کھیلا جاتا ہے؟
اگرچہ سیمی فائنل میں ہارنے والی ٹیمیں ذہنی طور پر فائنل کھیلنے کی خواہشمند ہوتی ہیں، تاہم تیسری پوزیشن کا پلے آف میچ ٹیموں کو پوڈیم پر جگہ بنانے اور کانسی کا تمغہ حاصل کرنے کا ایک آخری موقع فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ کا سحر، امیتابھ بچن بھی فٹبال کے دیوانے نکلے، نوجوان کھلاڑیوں کے نام جذباتی پیغام
اس میچ کے انعقاد کا مقصد جہاں شائقین کو ایک اور بڑا مقابلہ دیکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے، وہیں یہ فیفا اور براڈکاسٹرز کے لیے ریونیو اور شیڈولنگ گیپ کو پر کرنے کا اہم ذریعہ بھی ہے۔
گولڈن بوٹ کی دوڑ اور کھلاڑیوں کی دلچسپی
ورلڈ کپ کے تیسری پوزیشن کے میچ میں کیے گئے گولز ‘گولڈن بوٹ’ کی دوڑ میں شمار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ میچ انفرادی اعزازات کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
موجودہ اعداد و شمار کے مطابق لیونل میسی 8 گولز اور 4 اسسٹ کے ساتھ سرفہرست ہیں، جبکہ فرانس کے کلیان مباپے 8 گولز اور 3 اسسٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
انگلینڈ کے ہیری کین اور جوڈ بیلنگہم بھی 6، 6 گولز کے ساتھ دوڑ میں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 1958 میں فرانس کے جسٹ فونٹین نے اسی پلے آف میچ میں 4 گول کر کے ریکارڈ قائم کیا تھا۔
ٹیموں اور مینجرز کا مؤقف
فرانس کے کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپس کا کہنا ہے کہ ٹیم مایوس ضرور ہے لیکن تیسری پوزیشن حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری کوشش کرے گی۔
مزید پڑھیں:پولیس تحقیقات کے بعد فیفا ورلڈ کپ سے نکالے گئے ریفری روب ڈیپرنک چل بسے
دوسری جانب انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوچل نے کھل کر اظہار کیا کہ کوئی بھی کھلاڑی اس میچ کو کھیلنے کا خواہش مند نہیں، کیونکہ تمام کھلاڑی ورلڈ کپ ٹرافی اٹھانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔
مختصر تاریخ
تیسری پوزیشن کا یہ مقابلہ پہلی بار 1934 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ 1954 سے یہ سلسلہ ہر ورلڈ کپ کا حصہ رہا ہے۔ جہاں تک فرانس اور انگلینڈ کا تعلق ہے، فرانس ماضی میں 2 بار تیسری پوزیشن حاصل کر چکا ہے، جبکہ انگلینڈ اب تک اس پلے آف میں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔














