اگر سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیاں یہ سمجھتی ہیں کہ ایک ہی مصنوعی ذہانت یا اے آئی ماڈل ہر قسم کی سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے تو نئی تحقیق کے نتائج ان کی یہ توقع پوری نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے
ایک تازہ مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دور کے کسی بھی بڑے لارج لینگویج ماڈل (ایل ایل ایم) نے مختلف اقسام کے سافٹ ویئر میں موجود تمام کمزوریوں کی نشاندہی میں مستقل طور پر دوسروں پر برتری ثابت نہیں کی۔
یہ تحقیق انٹرنیشنل جرنل آف اپلائیڈ کرپٹوگرافی میں شائع ہوئی جسے واسیلیوس کولیاریڈِس اور ان کے ساتھی محققین نے انجام دیا۔ یونیورسٹی آف دی ایجیئن اور یورپی کمیشن کے جوائنٹ ریسرچ سینٹر کے ماہرین نے 11 اوپن سورس اور تجارتی اے آئی ماڈلز کا جائزہ لیا۔
تحقیق کے دوران 4 عوامی طور پر دستیاب معیار (بینچ مارکس) استعمال کیے گئے جن میں اینڈرائیڈ ایپلی کیشنز، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) سافٹ ویئر اور بلاک چین اسمارٹ کنٹریکٹس شامل تھے۔
محققین نے یہ بھی جانچا کہ آیا ریٹریول آگمینٹڈ جنریشن (آر اے جی) نامی تکنیک جس میں اے آئی ماڈل کو بیرونی حوالہ جاتی معلومات فراہم کی جاتی ہیں سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیے: گوگل کا بڑا انکشاف، ہیکرز کا اے آئی کے ذریعے ’خفیہ ترین‘ سائبر حملے کا منصوبہ ناکام
تحقیق میں معلوم ہوا کہ بعض اے آئی ماڈلز مخصوص شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں، تاہم چاروں ڈیٹا سیٹس پر کوئی ایک ماڈل سب سے بہتر ثابت نہیں ہوا۔
محققین کے مطابق نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ لارج لینگویج ماڈلز کو ہر قسم کی سیکیورٹی خامیوں کی جانچ کے لیے ایک جامع یا عالمگیر ٹول نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کے خیال میں مختلف نوعیت کے سافٹ ویئر کے لیے مختلف اے آئی ماڈلز کا انتخاب زیادہ مؤثر حکمت عملی ہوگی۔
تحقیق کے مصنفین نے پرانے تربیتی ڈیٹا (ٹریننگ سیٹس) اور اے آئی ہیلوسینیشن یعنی مصنوعی ذہانت کی جانب سے غلط یا من گھڑت معلومات پیش کرنے کے رجحان کو ان ماڈلز کی سب سے بڑی کمزوری قرار دیا۔
مزید پڑھیں: اے آئی ہماری تحریر کا قدرتی اور منفرد انداز چھین تو نہیں رہی؟
تحقیق کے ساتھ پیش کیے گئے صنعتی اعداد و شمار کے مطابق حالیہ برسوں میں دریافت ہونے والی سافٹ ویئر سیکیورٹی خامیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ حملوں میں استعمال ہونے والی کمزوریوں کی تعداد میں 96 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔













