گیری سوبرز: ایک بے بدل کرکٹر کو الوداع

اتوار 19 جولائی 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سر گیری سوبرز کے دنیا سے جانے کی خبر سن کر مجھے حنیف محمد بے طرح یاد آئے ہیں، دونوں ایک دوسرے کے مرتبہ شناس تھے۔ ایک کے لیے دوسرے کے کارنامے شنیدہ نہیں دیدہ تھے۔ انہوں نے بیچ میدان میں ایک دوسرے کو تاریخ بناتے اور صلاحیتوں کا بہترین اظہار کرتے دیکھا تھا۔

‎سوبرز نے ٹیسٹ میں سب سے زیادہ اوسط سے پاکستان کے خلاف رنز بنائے تھے۔ 8 ٹیسٹ میچوں میں 89.45 کی اوسط سے 984 رنز، تین سینچریوں اور چار نصف سینچریوں کی مدد سے۔ ادھر حنیف محمد کی سب سے بہتر اوسط ویسٹ انڈیز کے خلاف تھی، 6 ٹیسٹ میچوں میں 73.60 کی اوسط سے 736 رنز، 2 سینچریوں اور 3 نصف سینچریوں کی مدد سے۔

‎حنیف محمد نے 1958 میں برج ٹاؤن میں فالو آن کے بعد اپنی ٹیم کو شکست سے بچانے کے لیے عظیم اننگز کھیل کر 337 رنز بنائے تو گیری سوبرز نہ صرف حریف ٹیم میں شامل تھے بلکہ انہوں نے اس اننگز میں 57 اوورز بھی کیے تھے۔ یہ پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ تھا۔ کنگسٹن میں تیسرے میچ میں گیری سوبرز نے اپنے 17 ویں ٹیسٹ میں کیریئر کی پہلی سینچری بنائی اور ناقابل شکست 365 رنز بنا کر ٹیسٹ کرکٹ میں لین ہٹن کے سب سے زیادہ 364 اسکور کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ حنیف محمد اس کارنامے کے چشم دید گواہ تھے۔

‎یہ اننگز بلے باز کے طور پر سوبرز کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی، اس کے بعد ان کا بلا مسلسل رنز اگلنے لگا، پاکستان کے خلاف اگلے ٹیسٹ میں انہوں نے دونوں اننگز میں سینچری کی، اس کے بعد انڈیا کے خلاف مسلسل 3 ٹیسٹ میچوں میں سینچری بنائی۔

‎گیری سوبرز اور حنیف محمد کے تعلق کی سب سے مضبوط دستاویزی کڑی حنیف محمد کی خود نوشت ’پلیئنگ فار پاکستان‘ ہے۔ اس میں سے کچھ کشید کرکے ہم آپ کے سامنے پیش کریں گے جس کے پہلو بہ پہلو کچھ اور قصے بھی بیان ہوں گے جن سے سوبرز کی عظمت کے مختلف رخ سامنے آتے ہیں۔

‎حنیف محمد کی کتاب کا پیش لفظ سوبرز کے قلم سے ہے، جس میں جب وہ لکھنے پر آئے تو بات حنیف محمد پر رکی نہیں بلکہ ان کے خاندان کے کارناموں کا جائزہ بھی لیا۔ تحریر کا آغاز انہوں نے کچھ اس طرح کیا: ’حنیف محمد کا بیٹنگ ریکارڈ اب ایک اسطورے کی صورت اختیار کر چکا ہے لیکن کرکٹ کھیلنے والے محمد خاندان کی تاریخ اور اس کا پاکستان اور دنیائے کرکٹ میں کردار پریوں کی کہانیوں جیسا لگتا ہے۔‘

‎حنیف محمد نے کتاب میں اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے بارے میں تاثرات کے لیے الگ باب مختص کیا ہے۔ ان کی اس فہرست میں گیری سوبرز پہلے نمبر پر ہیں جنہیں اسی کتاب میں ایک اور جگہ انہوں نے لاثانی کرکٹر قرار دیا ہے۔ حنیف کے خیال میں وہ جن کے خلاف اور ساتھ (ورلڈ الیون میں) کھیلے ہیں ان میں سوبرز بہترین کھلاڑی تھے۔ ان کے بقول: ’میں نے ابھی تک ان جیسی عظمت کا حامل آل راؤنڈر نہیں دیکھا۔‘ بلے اور گیند سے ان کے کمالات کے ساتھ ساتھ وہ وکٹوں کے قریب ان کی شاندار فیلڈنگ کو بھی سراہتے ہیں۔

‎حنیف محمد کی زبانی ان کے گُن پڑھ کر ایک دلچسپ واقعہ یاد آ گیا ہے۔ سائمن لسٹر نے ویسٹ انڈین کرکٹ پر اپنی کتاب Fire in Babylon میں بتایا ہے کہ 1963 کے دورۂ انگلینڈ میں، ویسٹ انڈین کپتان فرینک وورل نے کھلاڑیوں پر رات 10 بجے کے بعد کمرے سے نکلنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اس ’کرفیو‘ سے سوبرز کو استثنا حاصل تھا، جس پر دوسرے کھلاڑی ناخوش تھے۔ ایک دن یہ ’باغی‘ کپتان کے پاس گئے اور کہاکہ یہ غلط بات ہے کہ سوبرز جس وقت تک مرضی باہر رہے اور ہمیں دس بجے سونے کا پابند کیا جائے۔ اس پر کپتان نے ’باغیوں‘ میں شامل باسل بوچر سے کہا: ’اچھا ٹھیک ہے، تم اور دوسرے کھلاڑی 5 وکٹیں، شارٹ لیگ پر 2 عمدہ کیچ اور سینچری بنا کر دکھاؤ تو پھر تمہیں بھی میری طرف سے یہ اجازت ہوگی کہ جب تک چاہو باہر گھومو پھرو۔‘

‎حنیف محمد نے لکھا ہے کہ سوبرز کی بیٹنگ سراسر دلکشی تھی اور دنیا کے دوسرے عظیم کھلاڑیوں کے مقابلے میں انہیں گیند جلد نظر آ جاتی تھی۔ حنیف محمد نے اپنی کتاب میں سوبرز کی 365 رنز کی اننگز کے بارے میں لکھا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس اننگز کے دوران سوبرز کو 2 دفعہ آؤٹ نہیں دیا گیا جو کہ بالکل غلط بات ہے۔ حنیف محمد کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس اننگز کے دوران حریف ٹیم کو کوئی چانس نہیں دیا اور وہ دلکش اسٹروکس سے بھرپور بے داغ اننگز تھی۔ حنیف محمد بتاتے ہیں کہ بس ایک موقع پر ان کے آؤٹ ہونے کا امکان پیدا ہوا تھا جب گیند ان کے بلے کا باہری کنارہ لے کر سلپ کی طرف گئی جہاں فضل محمود کو موجود ہونا چاہیے تھا لیکن وہ لمبے اسپیل کی تھکاوٹ کی وجہ سے سلپ کے بجائے شارٹ تھرڈ مین کے پاس کھڑے تھے۔ اس صراحت سے تو کوئی اپنی اننگز پر اٹھنے والے سوالات کا جواب نہیں دیتا۔

حنیف محمد کھلاڑی ہی نہیں کپتان کی حیثیت سے بھی ان کی تعریف کرتے ہیں۔ ان کی دانست میں سوبرز جرأت مند کپتان تھے جنہیں میچ نتیجہ خیز بنانے سے سروکار ہوتا تھا، ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی کہ کھیل ہی کی جیت ہو۔

حنیف محمد نے لکھا ہے کہ ان کی مثبت سوچ انہیں دلیرانہ ڈیکلیریشن پر اکساتی تھی جس کی وجہ سے ایک دفعہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے ہاتھ سے نکل گیا تھا لیکن وہ شائقین کی کھیل میں دلچسپی زندہ رکھنے کی فکر میں رہتے تھے سو اس میچ میں ہار کے باوجود اپنا یہ مقصد انہوں نے حاصل کر لیا تھا۔

سر فرینک وورل کے تربیت یافتہ گیری سوبرز سے کپتانی میں اسی طرزِ فکر کی توقع باندھی جا سکتی تھی جن سے کرکٹ اور زندگی کے بارے میں سیکھنے کا اقرار کرتے ہوئے اپنی یادداشتوں میں سوبرز نے انہیں اپنا رہبر اور اپنی انسپریشن قرار دیا ہے۔ ان کی نظر میں وورل ویسٹ انڈیز کے بہترین کپتان تھے جن سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ 1960 میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان برسبن میں کرکٹ کی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ ٹائی ہوا۔ اسے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے سنسنی خیز مقابلہ کہا جاتا ہے۔ اس میچ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان وورل تھے اور اس میں گیری سوبرز نے پہلی اننگز میں 132 رنز بنائے تھے۔ اس سیریز کے سڈنی ٹیسٹ میں انہوں نے 168 رنز کی اننگز کھیلی تھی۔

‎ یہ تو آسٹریلیا میں اس دور کے کارہائے نمایاں ہیں جب آتش جوان تھا، اپنے کیرئیر کے آخری حصے میں انہوں نے آسٹریلیا میں وہ ناقابلِ فراموش اننگز کھیلی جس کا تذکرہ بڑے بڑے کھلاڑیوں اور مبصرین نے کیا ہے۔

1972 میں ورلڈ الیون کے کپتان کی حیثیت سے سوبرز نے آسٹریلیا کی مضبوط بولنگ کے خلاف 254 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ یہ ڈینس للی کے عروج کا زمانہ تھا جبکہ سوبرز کا کیریئر اختتام کی طرف گامزن تھا۔ ڈینس للی گزشتہ میچ کی ایک اننگز میں 8 تو دوسری میں 4 وکٹیں لے چکے تھے۔ میلبورن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے سوبرز کو صفر پر پویلین کی راہ دکھائی تھی۔ اس ناکامی کی کسر سوبرز نے دوسری اننگز میں 254 رنز(ناٹ آؤٹ) بنا کر نکالی۔

اس اننگز کو بریڈمین نے آسٹریلین سرزمین پر بلے بازی کا بہترین مظاہرہ قرار دیا تھا، اس سے بڑھ کر کسی کے کھیل کی اور کیا تعریف ہو سکتی ہے۔

سوبرز کی متنوع خوبیوں کی بنیاد پر بریڈ مین انہیں فائیو ان ون کہا کرتے تھے، حنیف محمد کی نظر میں وہ فور ان ون پیکج تھے۔

حنیف محمد نے اپنی کتاب میں گیری سوبرز کے بارے میں جو لکھا وہ آپ کی نظر سے گزر چکا ہے تو اب ذرا سوبرز کی آپ بیتی کھول کر دیکھتے ہیں کہ ان کی اپنے اس عظیم ہم عصر کے بارے میں کیا رائے تھی۔

سوبرز نے حنیف کو کرکٹ کے ان عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک قرار دیا ہے جو رنز بنانے کی مشین ہوتے ہیں۔ ان کی تکنیک کو وہ قریباً بے عیب ٹھہراتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کا بے پناہ ارتکاز۔ حنیف محمد ان کے خیال میں ہر اچھی گیند کو عزت دیتے تھے لیکن بری گیند کو نہیں بخشتے تھے۔ سوبرز کے خیال میں حنیف محمد آؤٹ کرنے کا شاذو نادر ہی کوئی موقع دیتے تھے اور اگر کبھی آپ اس موقع کو گنوا دیتے تو پھر اس کی سزا آپ کو حنیف کے ہاتھوں بار بار ملتی تھی۔

سوبرز کی بزمِ جہاں سے رخصتی پر انہیں یاد کرنے کے لیے ان کے ہم عصر لیجنڈ حنیف محمد کے لفظوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جنہوں نے لکھا کہ سوبرز جیسا دوسرا کرکٹر کبھی نہیں آیا۔

اس بیان کی شرح یہ ہے کہ ممکن ہے سوبرز سے بڑے بلے باز آئے ہوں، ان سے بہتر صلاحیت کے بولر بھی بہت سے ہوں گے لیکن ان کے پائے کا کرکٹر کوئی نہیں آیا۔ اس بات کی مزید صراحت کے لیے کیتھ ملر کے مختصر مگر جامع بیان سے رجوع کرتے ہیں۔

آسٹریلیا کے سابق کپتان اور نامور کرکٹ مبصر آئن چیپل کی کتاب Chappelli: Life, Larrikins & Cricket میں آسٹریلین آل راؤنڈر کیتھ ملر کے اپنے بیٹے کے ساتھ کرکٹ میچ دیکھنے کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ دورانِ میچ، ٹی وی اسکرین پر بیٹنگ کے بارے میں اعدادو شمار ابھرے جن کی بنیاد پر کمنٹیٹر نے ڈان بریڈمین کو کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین کھلاڑی قرار دیا۔ کیتھ ملر نے بیٹے کے سامنے اس بیان کی تصحیح کرنا ضروری خیال کیا :

’آل ٹائم عظیم ترین بلے باز: سر ڈان بریڈمین

آل ٹائم عظیم ترین کرکٹر: سر گیری سوبرز‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ریڈ فیوری‘ سے ’سیمفنی ان ریڈ‘ تک، اسپین عالمی فٹبال کا بے تاج بادشاہ کیسے بنا؟

مٹیاری کے قریب مال گاڑی حادثہ، اپ اور ڈاؤن ٹریک بند، ٹرین آپریشن 24 گھنٹے متاثر رہنے کا خدشہ

3 سال سے بھارت نہیں گئے، کرکٹر حسن علی کی اہلیہ کا بھارتی میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر ردعمل

فری لانسرز ملکی معیشت کا مضبوط سہارا بن گئے، ریکارڈ زرمبادلہ کما لیا

ڈونلڈ ٹرمپ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں فاتح ٹیم کو ٹرافی دینے کے لیے تیار

ویڈیو

اردن میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد واشنگٹن کی ایران پر شدید بمباری، تہران کا انتقام کا اعلان، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی

’محدود بجٹ میڈیا انڈسٹری کے لیے بڑا چیلنج بن گیا‘

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

کالم / تجزیہ

ایک اور تحریک وکلا: ہماری توبہ، ہمیں معاف رکھیں

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری