مانچسٹر کے سابق میئر اینڈی برنہم پیر کو برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھانے کے لیے تیار ہیں، جس کے ساتھ ہی وہ گزشتہ ایک دہائی میں ملک کی قیادت سنبھالنے والے ساتویں رہنما بن جائیں گے۔
گزشتہ ماہ کیئر اسٹارمر کے اچانک استعفے کے بعد، جمعہ کو لیبر پارٹی نے بھاری اکثریت سے اینڈی برنہم کو اپنا نیا سربراہ منتخب کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نو منتخب وزیر اعظم کو اچھے دن لانے کے لیے ان معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نمٹنا ہوگا جو ان کے پیشروؤں کی برطرفی کا سبب بنے۔
معاشی بحران اور عوام کو ریلیف کا چیلنج
اینڈی برنہم کی اولین ترجیح ملکی معیشت کو سہارا دینا اور عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے، جو روس یوکرین جنگ کے بعد سے خوراک اور توانائی کی آسمان کو چھوتی قیمتوں سے نڈھال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کے وزیراعظم کے لیے اینڈی برنہم کے نام پر غور، جانیں وہ کون ہیں؟
تاہم سست معاشی ترقی، ریکارڈ عوامی قرضوں اور ٹیکس و اخراجات کے سخت مالیاتی قوانین کی وجہ سے ان کے پاس فیصلے کرنے کی گنجائش انتہائی کم ہے۔
اپنی حالیہ تقریر میں برنہم نے عزم ظاہر کیا کہ وہ ’ملک کو اس نہج پر لے جانا چاہتے ہیں جہاں زندگی گزارنا آسان اور سستا ہو‘۔
وہ مقامی مراکز کو بااختیار بنا کر قومی ترقی کو فروغ دینے، چھوٹے کاروباروں کی معاونت اور پانی، ٹرانسپورٹ و توانائی کے شعبوں پر سرکاری کنٹرول بڑھانے کے حامی ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق توانائی کے بل کم کرنے کے لیے وہ بحیرۂ شمالی میں تیل اور گیس کی ڈرلنگ پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی کر سکتے ہیں۔
پینشنرز کے فنڈز اور ٹوٹا ہوا ہیلتھ سسٹم
نئے وزیر اعظم کے لیے ایک اور بڑا دردِ سر تیزی سے بڑھتے ہوئے ویلفیئر (بہبود) کے اخراجات ہیں۔ ان کے پیشرو کیئر اسٹارمر کو بزرگوں کے لیے سردیوں میں ایندھن کے الاؤنسز میں کٹوتی پر شدید عوامی اور پارٹی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے پیچھے ہٹنے کے باعث وہ غیر مقبول ہوئے۔
لیبر پارٹی کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے برنہم پر اب ان مراعات کو برقرار رکھنے کا شدید دباؤ ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے سوشل کیئر جیسے کم فنڈز والے شعبوں کو ٹھیک کرنے کا وعدہ کیا ہے، جس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’موجودہ نظام بالکل ٹوٹ چکا ہے‘۔
دفاعی بجٹ میں اربوں ڈالر کا خسارہ
برطانیہ کے دفاعی انویسٹمنٹ پلان میں اگلے 4 سالوں کے دوران 4.7 ارب پاؤنڈ (6.3 ارب ڈالر) کا بڑا خسارہ موجود ہے، جسے پورا کرنا اب برنہم کی ذمہ داری ہوگی۔
مزید پڑھیں:نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل اسٹارمر حکومت کو بڑا دھچکا، برطانوی وزیرِ دفاع مستعفی
انہیں پارٹی کے اندر اور امریکا جیسے اتحادیوں کی طرف سے دفاعی بجٹ کو بڑھا کر 2035 تک جی ڈی پی کے 3.5 فیصد تک لے جانے کے نیٹوز کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نائجل فراج کی مقبولیت اور خارجہ پالیسی کا امتحان
سیاسی محاذ پر برنہم کا سب سے بڑا مقابلہ نائجل فراج کی سخت گیر دائیں بازو کی تارکینِ وطن مخالف جماعت ‘ریفارم یوکے’ اور بائیں بازو کی ‘گرینز’ سے ہے، جنہوں نے حال ہی میں لیبر پارٹی کے ووٹ بینک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
برنہم نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی دوسری جماعت کی نقل کرنے کے بجائے خالصتاً لیبر پارٹی کے نظریات پر الیکشن جیتیں گے۔
بین الاقوامی سطح پر ان کا سب سے بڑا امتحان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ توازن برقرار رکھنا ہوگا، جنہوں نے برنہم کو ’انتہائی لبرل‘ قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں بھی ان کے سامنے ہوں گی۔ تاہم برنہم نے واضح کیا ہے کہ وہ اسٹارمر کی خارجہ پالیسی پر ہی قائم رہیں گے اور امریکا و نیٹو کے ساتھ تعلقات اور یوکرین کی حمایت میں کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔













