انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے زیرِ اہتمام منعقدہ ‘سمر کیمپ 2026’ میں ملک بھر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کیمپ کا دورہ کیا اور طلبہ کے ساتھ ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا۔
اس نشست کا مقصد نوجوانوں میں قومی شعور کو بیدار کرنا اور ملک کو درپیش چیلنجز سے متعلق ان کی فکری صلاحیتوں کو نکھارنا تھا۔
ملک کے 18 شہروں سے 4 ہزار طلبہ کی شرکت
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس منفرد سمر کیمپ میں پاکستان کے 18 سے زیادہ شہروں سے تعلق رکھنے والے 9 ویں سے 12 ویں جماعت کے 4,000 سے زیادہ طلبہ اور طالبات حصہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں طالبان رجیم سہولت کاری، بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری
خصوصی سیشن کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان نے طلبہ کو صوبے کی موجودہ صورتحال، درپیش چیلنجز اور نوجوانوں میں قومی آگہی کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے طلبہ کی جانب سے پوچھے گئے تیکھے اور اہم سوالات کے انتہائی منطقی اور جامع جوابات بھی دیے۔
دہشتگردی کی مذمت اور سول و عسکری قیادت کو خراجِ تحسین
طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ’دہشتگردی اور تشدد کی کسی بھی شکل کو کسی بھی صورت یا بہانے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے حالیہ عالمی بحران کے دوران پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے کلیدی کردار کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’آج وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں پاکستان عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔‘
سوشل میڈیا پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ بلوچستان نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال ذمہ داری، تحقیق اور مکمل آگہی کے ساتھ کریں۔
مزید پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر کی یونیورسٹی آف گوادر میں اساتذہ اور طلبا کے ساتھ خصوصی نشست
انہوں نے متنبہ کیا کہ ’گمراہ کن معلومات اور جھوٹا پروپیگنڈا اس وقت نوجوان ذہنوں کو متاثر کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔‘
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے پاکستان اور بلوچستان کو ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم اور ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کا رشتہ اٹوٹ ہے۔













