پاکستان میں میڈیا کا منظرنامہ گزشتہ 2 دہائیوں میں تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ روایتی ذرائع ابلاغ سے لے کر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا تک، خبر کی ترسیل کا انداز یکسر بدل چکا ہے۔ ان تبدیلیوں نے جہاں صحافت کے دائرہ کار کو وسیع کیا، وہیں اس شعبے کو نئے چیلنجز سے بھی دوچار کر دیا ہے۔
وی نیوز کے خصوصی پوڈکاسٹ میں سینیئر اینکر پرسن رضوان جعفر نے پاکستانی میڈیا کے ماضی، حال اور مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ آج صحافت کا سب سے بڑا امتحان صرف خبر سب سے پہلے نشر کرنا نہیں بلکہ درست، متوازن اور مصدقہ معلومات عوام تک پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا کے دور میں خبر کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، تاہم اس رفتار کے ساتھ ذمہ داری اور تحقیق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
رضوان جعفر نے کہا کہ میڈیا کی ساکھ اس وقت قائم رہ سکتی ہے جب صحافتی اصول، غیر جانبداری اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ تحقیق، اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کو بھی اپنی ترجیح بنانا ہوگا۔
گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان میں یوتھ پارلیمنٹ کے تصور کو متعارف کرانے کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو قیادت، جمہوری اقدار اور قومی امور سے جوڑنا تھا تاکہ نئی نسل صرف سیاسی عمل کو سمجھے ہی نہیں بلکہ اس میں مثبت کردار بھی ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل باصلاحیت اور باشعور نوجوانوں سے وابستہ ہے، اس لیے انہیں تعمیری سوچ اور مکالمے کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پوڈکاسٹ میں الیکٹرانک میڈیا کے ارتقا، ریٹنگ کی دوڑ، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات، مصنوعی ذہانت کے ممکنہ کردار اور عوامی اعتماد کی بحالی جیسے اہم موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ رضوان جعفر نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا صرف اطلاعات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی فکری رہنمائی اور مثبت تبدیلی کا ایک مؤثر ستون بھی ہے۔
وی نیوز کی اس خصوصی پوڈکاسٹ میں رضوان جعفر نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر صحافت اپنے بنیادی اصولوں، تحقیق، دیانت داری اور عوامی مفاد کو مقدم رکھے تو پاکستانی میڈیا مستقبل میں بھی عوام کے اعتماد پر پورا اتر سکتا ہے اور قومی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔













