دہشتگردی کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی، وزیراعلیٰ بلوچستان کا 4 ہزار طلبہ سے براہِ راست مکالمہ

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے آئی ایس پی آر سمر کیمپ 2026 کے دوران بلوچستان کے 18 شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طلبہ سے براہِ راست سوال و جواب کی نشست میں کہا ہے کہ دہشتگردی اور تشدد کی کسی بھی صورت میں کوئی گنجائش یا جواز نہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے اور گمراہ کن معلومات سے ہوشیار رہیں اور ہر خبر کی تصدیق کے بعد ہی اس پر یقین کریں۔

آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام سمر کیمپ 2026 میں بلوچستان کے 18 شہروں سے تعلق رکھنے والے نویں سے بارہویں جماعت کے 4 ہزار سے زائد طلبہ سے خطاب اور براہِ راست سوال و جواب کی نشست میں وزیراعلیٰ نے بلوچستان، امن و امان، دہشتگردی، نوجوانوں کے کردار اور قومی سلامتی سمیت مختلف موضوعات پر طلبہ کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشتگردی کا سب سے زیادہ نقصان خود بلوچستان کے عوام نے اٹھایا ہے۔ ان کے بقول دہشتگردوں نے ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جنہوں نے ان کی حمایت سے انکار کیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشتگردی کا پہلا شکار مقامی آبادی ہی بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے 500 خواتین کو کاروباری مہارتیں، ٹیبلیٹس اور بزنس ٹول کٹس فراہم، بلوچستان میں خواتین کی ترقی کا نیا باب

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے شروع کیے گئے منصوبے بھی دہشتگردوں کے نشانے پر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منگی ڈیم جیسے عوامی فلاحی منصوبوں پر حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشتگرد عناصر صوبے کی ترقی اور عوامی بہبود کے منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے الزام عائد کیا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ (RAW)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی پشت پناہی کر رہی ہے، جبکہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ کسی بھی خبر یا بیانیے کو بغیر تحقیق قبول نہ کریں، کیونکہ غلط معلومات اور پروپیگنڈا بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باشعور نوجوان ہی حقیقت اور پروپیگنڈے میں فرق کر سکتے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ حالیہ پولیس حملے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جا چکا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے دہشتگردی اور ریاست مخالف پروپیگنڈا ناکام ہوگا، بلوچستان میں امن ہر صورت قائم کریں گے، سرفراز بگٹی

انہوں نے مئی میں بھارت کے ساتھ ہونے والی حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے مؤثر جواب دیا اور ’معرکۂ حق‘ کے دوران مسلح افواج نے قومی اتحاد اور دفاعی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے وجود میں آیا ہے‘ اور ملک کا مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بلوچستان کے نوجوان مثبت سوچ، تعلیم، تحقیق اور قومی یکجہتی کو فروغ دیتے ہوئے صوبے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور بلوچستان ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے اور صوبے کا روشن مستقبل اتحاد، تعلیم یافتہ نوجوانوں اور باخبر معاشرے سے وابستہ ہے، نہ کہ بیرونی پروپیگنڈے سے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے 25 اگست کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا

برطانیہ میں سالمونیلا پھیلنے کا خدشہ، علامات، علاج اور بچاؤ کے طریقے

امریکی یونیورسٹیوں کی غیرملکی طلبہ کو 15 ستمبر سے قبل امریکا واپس پہنچنے کی ہدایت

معاشی تنہائی یا عالمی معیشت میں شمولیت، امریکا کا ایران کو سخت پیغام

اسلام آباد کے قریب ہزار سال پرانے گکھڑ دور کے تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

ویڈیو

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

جیل رولز کسی بھی قیدی کو پرائیویٹ اسپتال سے علاج کی اجازت نہیں دیتے: سینیئر وکلا

بلوچستان کا طالب علم اے آئی کی مدد سے انسانوں کو نئی زندگی فراہم کرے گا؟

کالم / تجزیہ

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار