فِلنگ اور امپلانٹس کا دور ختم ہونے والا ہے؟ سائنسدان انسانی دانت دوبارہ اگانے کے نزدیک

پیر 20 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگرچہ دانتوں کی خرابی اور ٹوٹ پھوٹ کا علاج آج بھی فلنگ، روٹ کینال اور مصنوعی امپلانٹس کے ذریعے کیا جاتا ہے لیکن دنیا بھر کے سائنسدان اب ایسی جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جس کے ذریعے مستقبل میں خراب یا ضائع ہونے والے انسانی دانت دوبارہ قدرتی طور پر اُگائے جا سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: چینی شہری کے ساتھ ڈینٹل کلینک کا دھوکا، 12 دانت نکال کر اکاؤنٹ خالی کردیا

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کے انکشاف کیا ہے کہ ری جنریٹو ڈینٹسٹری نامی شعبہ اسٹیم سیلز، حیاتیاتی پروٹینز اور ٹشو انجینیئرنگ کی مدد سے دانتوں کو مصنوعی مواد سے بھرنے کے بجائے انہیں خود مرمت کرنے یا مکمل نیا دانت اگانے کی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 دانت صرف مسکراہٹ نہیں مجموعی صحت کی بنیاد بھی ہیں

امریکا کی یونیورسٹی آف واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیم سیل اینڈ ری جنریٹو میڈیسن کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ہینیلے روہولا بیکر کے مطابق انہیں تقریباً روزانہ ایسے افراد کی ای میلز موصول ہوتی ہیں جو تجرباتی تحقیق میں شامل ہو کر اپنے دانت دوبارہ اگوانا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق لوگ روایتی دندان سازی کے طریقوں سے ہٹ کر کوئی مستقل اور قدرتی حل چاہتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ منہ اور دانتوں کی صحت صرف چبانے یا خوبصورت مسکراہٹ تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق پورے جسم کی صحت سے ہے۔

مزید پڑھیے: دانت سفید کرنے کے غیر مستند علاج کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

تحقیقات کے مطابق مسوڑھوں میں موجود بیکٹیریا دل کی بیماریوں، سانس کے انفیکشنز اور یہاں تک کہ الزائمر جیسے امراض کے خطرات بھی بڑھا سکتے ہیں جبکہ دانتوں کا ضائع ہونا قبل از وقت بیماریوں اور اموات سے بھی منسلک پایا گیا ہے۔

موجودہ فلنگ اور امپلانٹس کیوں ناکافی ہیں؟

ماہرین کے مطابق موجودہ فلنگ عموماً صرف خراب حصہ بھر دیتی ہے لیکن دانت کو دوبارہ زندہ یا قدرتی حالت میں بحال نہیں کرتی۔

فلنگ عموماً 5 سے 20 سال تک چل سکتی ہے جس کے بعد اکثر دوبارہ علاج کرانا پڑتا ہے۔

اسی طرح مصنوعی امپلانٹس اگرچہ مؤثر سمجھے جاتے ہیں لیکن ان میں قدرتی اعصاب موجود نہیں ہوتے اس لیے مریض کو چبانے کے دوران دباؤ کا صحیح احساس نہیں ہوتا اور امپلانٹ ٹوٹنے کا خدشہ رہتا ہے۔

مزید یہ کہ ان پر بیکٹیریا جمع ہو سکتے ہیں مصنوعی تاج (کراؤن) تقریباً 15 سال بعد تبدیل کرنا پڑتا ہے اور ان پر ہزاروں ڈالر تک لاگت آ سکتی ہے۔

مستقبل میں دانت خود ہی گڑھے بھر سکیں گے؟

امریکا کی یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کی پروفیسر این جارج دانت کے اندر موجود ڈینٹین نامی ٹشو پر تحقیق کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: چینی نوجوان دانتوں پر ٹیٹو کیوں بنوا رہے ہیں؟

ڈینٹین دانت کی وہ تہہ ہے جو اینامل کے نیچے ہوتی ہے اور اس کی مرمت کی محدود قدرتی صلاحیت رکھتی ہے۔

اینامل دانت کی سب سے بیرونی، سخت اور حفاظتی تہہ ہوتی ہے جسے انسانی جسم کا سب سے مضبوط ٹشو سمجھا جاتا ہے۔ اس کا بنیادی کام دانت کو چبانے، گرم و ٹھنڈی اشیا، تیزابی غذاؤں اور بیکٹیریا سے محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم ایک بار اینامل گھس جائے یا ٹوٹ جائے تو انسانی جسم قدرتی طور پر اسے دوبارہ نہیں بنا سکتا کیونکہ اینامل بنانے والے خلیات (ایمیلوبلاسٹس) دانت نکلنے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان اب ایسی جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کر رہے ہیں جس کے ذریعے اینامل کو دوبارہ پیدا کیا جا سکے یا اس کی قدرتی مرمت ممکن بنائی جا سکے۔

پروفیسر این جارج نے ایسے پروٹینز اور جینیاتی عوامل پر تحقیق کی ہے جو ڈینٹین کی تشکیل اور مرمت میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ان کے مطابق مستقبل میں ایسی دوائیں یا علاج ممکن ہو سکتے ہیں جو خراب دانت کو خود نیا ڈینٹین بنانے پر مجبور کر دیں جس کے بعد روایتی فلنگ کی ضرورت نہ رہے۔

زندہ فلنگ بنانے پر بھی کام جاری

دوسری جانب ہینیلے روہولا بیکر اور ان کی ٹیم لِونگ فلنگز‘ پر کام کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں کے کیڑے فالج اور دماغی نقصان کی وجہ بنتے ہیں، تحقیق

انہوں نے تحقیق کے دوران عقل کے دانتوں سے معلوم کیا کہ اینامل بنانے والے خلیات دانت نکلنے کے بعد ختم ہو جاتے ہیں اس لیے اینامل دوبارہ نہیں بنتا۔

اس مسئلے کے حل کے لیے سائنسدانوں نے اسٹیم سیلز کو اینامل بنانے والے خلیات اور دوسرے اسٹیم سیلز کو اوڈونٹوبلاسٹس میں تبدیل کیا جو ڈینٹین بناتے ہیں۔

بعد ازاں ان خلیات کو ایک ساتھ ملا کر لیبارٹری میں ایک ایسا ٹوتھ آرگینائیڈ تیار کیا گیا جو خود اینامل پروٹین پیدا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں یہی اینامل پروٹین ٹوٹے ہوئے دانتوں پر لگائے جا سکیں گے یا ان کی مدد سے حیاتیاتی فلنگ تیار کی جا سکے گی۔

پورا نیا دانت اگانے کی کوشش

ہینیلے روہولا بیکر کا طویل مدتی ہدف صرف فلنگ نہیں بلکہ مکمل نیا دانت اگانا ہے۔

مزید پڑھیں: آن لائن ویڈیوز کی مدد سے دانتوں کا علاج کرنے والا جعلی ڈینٹسٹ خاندان پکڑا گیا

ان کے مطابق مستقبل میں دانت بنانے والے خلیات براہ راست مریض کے جبڑے میں رکھ دیے جائیں گے اور باقی کام قدرتی حیاتیاتی نظام خود مکمل کرے گا۔

لیبارٹری میں پورا دانت بنانے کی تحقیق

برطانیہ کی کنگز کالج لندن کی ری جنریٹو ڈینٹسٹری کی سربراہ اینا اینجیلووا وولپونی بھی مکمل حیاتیاتی دانت تیار کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

ان کی ٹیم نے بالغ انسان کے مسوڑھوں کے خلیات کو چوہوں کے دانت بنانے والے خلیات کے ساتھ ملا کر ایک ایسا ابتدائی دانتی ڈھانچہ تیار کیا جس میں جڑیں بھی بننا شروع ہو گئیں۔

اب وہ ایسے حیاتیاتی مواد تیار کر رہی ہیں جو انسانی خلیات کو خود بخود مکمل دانت بنانے میں مدد دے سکیں۔

خنزیر کی مدد سے کامیاب تجربہ

امریکا کی ٹفٹس اسکول آف ڈینٹل میڈیسن کی پروفیسر پامیلا ییلک نے خنزیر کے دانت بنانے والے خلیات اور انسانی دانتوں کے خلیات کو ملا کر ایک اہم تجربہ کیا۔

کچھ جانوروں کے جبڑوں میں مستقبل کے دانتوں کے کئی ابتدائی خلیات موجود ہوتے ہیں جنہیں استعمال کرتے ہوئے سائنسدانوں نے لیبارٹری میں ایسے دانت نما ڈھانچے تیار کیے جو قدرتی دانتوں کی رفتار سے بڑھنے لگے۔

مزید پڑھیے: اداکارہ ماہم عامر کے دانت سے سوشل میڈیا صارفین کو مسئلہ کیا ہے؟

تحقیق کے مطابق 3 ماہ بعد یہ دانت قدرتی دانتوں سے کافی مشابہت رکھتے تھے۔ تاہم طویل مدتی مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں کسی جانور کے خلیات استعمال کیے بغیر انسان کے اپنے جسم میں ہی نیا دانت اگایا جا سکے۔

انسانوں پر تجربات میں ابھی وقت لگے گا

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نتائج امید افزا ہیں لیکن انسانوں پر ایسے علاج کے آغاز میں ابھی کئی برس لگ سکتے ہیں۔

ہینیلے روہولا بیکر کے مطابق انسانوں پر تجربات سے پہلے بندروں سمیت دیگر جانوروں پر مزید تحقیق ضروری ہوگی جس کے لیے مزید وقت، فنڈنگ اور محفوظ ٹیکنالوجی درکار ہے۔

صرف دانت ہی نہیں، دیگر اعضا کی تیاری میں بھی مدد

ماہرین کے مطابق دانت انسانی جسم کے پیچیدہ ترین اعضا میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سخت اور نرم دونوں طرح کے ٹشوز ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔

اسی لیے دانت دوبارہ بنانے کی یہ تحقیق مستقبل میں ہڈیوں، اعضا اور دیگر انسانی بافتوں کو لیبارٹری میں تیار کرنے کی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین: باڈی بلڈر کا دانتوں سے 6کاریں ایک ساتھ کھینچنے کا عالمی ریکارڈ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی عام مریضوں کے لیے دستیاب نہیں تاہم مستقبل میں محفوظ، پائیدار اور قدرتی طریقے سے دانت دوبارہ اگانے کا خواب حقیقت بن سکتا ہے جس سے دندان سازی کے شعبے میں ایک انقلابی تبدیلی آنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر کے وزیراعظم نامزد ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی جانب اہم پیشرفت، بیرسٹر افتخار گیلانی وزیراعظم نامزد

کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی فائرنگ، رینجرز اہلکار شہید

پمز اسپتال واقعہ ایک حادثہ، وزیراعظم اور وزیر کا کام ایک اسپتال کو دیکھنے کا نہیں ہونا چاہیے، مصطفیٰ کمال

پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار