6 ورلڈ کپ، 34 میچ، 21 گول، 12 اسسٹ، بے شمار عالمی ریکارڈز اور 3 فائنلز، لیونل میسی کا سفر صرف اعداد و شمار نہیں، فٹبال کی ایک لازوال داستان ہے۔
کبھی کبھی کھیل کا سب سے بڑا ہیرو ٹرافی نہیں، بلکہ اپنی داستان سے امر ہو جاتا ہے۔ لیونل میسی کے لیے 2026 کا ورلڈ کپ بھی ایسا ہی ثابت ہوا۔ اسپین کے خلاف اضافی وقت میں فائنل کی شکست نے اگرچہ مسلسل دوسری عالمی ٹرافی جیتنے کا خواب توڑ دیا، لیکن میسی نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ فٹبال کی تاریخ میں ان کا مقام کسی ایک ٹائٹل کا محتاج نہیں۔
مزید پڑھیں: ورلڈ کپ فائنل میں ارجنٹینا کی شکست پر لیونل میسی نے خاموشی توڑ دی
میسی نے 2006 میں پہلی بار ورلڈ کپ کھیلا اور ایک گول، ایک اسسٹ کے ساتھ اپنی آمد کا اعلان کیا۔ 2010 میں اگرچہ وہ گول نہ کر سکے، تاہم ایک اسسٹ اور شاندار کھیل سے ٹیم کو کوارٹر فائنل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 2014 میں 4 گول کرکے ارجنٹائن کو فائنل تک پہنچایا اور گولڈن بال جیتی، 2018 میں ایک گول اور 2 اسسٹ کیے، 2022 میں 7 گول اور 3 اسسٹ کے ساتھ ارجنٹائن کو عالمی چیمپیئن بنایا، جبکہ 2026 میں 8 گول اور 4 اسسٹ کے باوجود ٹیم فائنل میں اسپین سے اضافی وقت میں شکست کھا گئی۔
After 2022, none of us imagined we’d even be here. We all thought Messi wouldn’t play in 2026. At 39, he reached a level no athlete has ever reached at that age. He owed us nothing, yet gave us everything.
You’ll always be the greatest, Leo. pic.twitter.com/X4BpHc4OFd
— All About Argentina 🛎🇦🇷 (@AlbicelesteTalk) July 20, 2026
39 سالہ ارجنٹائنی سپر اسٹار نے اپنے کیریئر میں چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کرتے ہوئے وہ کارنامے انجام دیے جنہیں دہرانا شاید آنے والی کئی نسلوں کے لیے بھی آسان نہ ہو۔ ان کے نام اب ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 34 میچ کھیلنے، 23 فتوحات حاصل کرنے، 17 ناک آؤٹ مقابلوں میں شرکت کرنے اور 3,054 منٹ (50 گھنٹے 54 منٹ) میدان میں گزارنے کا ریکارڈ ہے۔
میسی نے اپنے ورلڈ کپ کیریئر میں 21 گول اور 12 اسسٹ کیے، یوں وہ مجموعی طور پر 33 گول کنٹری بیوشنز کے ساتھ اسٹیج کے سب سے مؤثر کھلاڑی بن گئے۔ 1966 کے بعد سے ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی کھلاڑی نے اتنے گول کرنے اور کروانے میں کردار ادا نہیں کیا۔
ورلڈ کپ کی تاریخ میں وہ صرف دوسرے مرد فٹبالر ہیں جنہوں نے 3 فائنلز (2014، 2022 اور 2026) کھیلے۔ اس سے قبل صرف برازیل کے عظیم کپتان کیفو (1994، 1998 اور 2002) یہ اعزاز رکھتے تھے۔

میسی نے اس ٹورنامنٹ میں ایک اور منفرد سنگِ میل بھی عبور کیا۔ وہ ورلڈ کپ کی تاریخ کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنی نوعمری، بیس کی دہائی اور تیس کی دہائی تینوں میں گول اسکور کیے، جبکہ وہ 6 مختلف ورلڈ کپ میں اسسٹ کرنے والے بھی واحد فٹبالر ہیں۔
2026 کے ورلڈ کپ میں بھی میسی کی کارکردگی غیرمعمولی رہی۔ انہوں نے 8 گول کیے، 4 اسسٹ دیں، 25 مواقع پیدا کیے اور ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں شامل رہے۔ انہیں سلور بال اور سلور بوٹ سے نوازا گیا، تاہم فائنل میں اسپین کے خلاف ان کا مسلسل 11 میچوں پر مشتمل گول یا اسسٹ کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
اس سے قبل 2022 میں انہوں نے ارجنٹائن کو عالمی چیمپیئن بنایا، 7 گول اور 3 اسسٹ کے ساتھ گولڈن بال جیتی، جبکہ 2014 میں بھی ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے، اگرچہ اس وقت ارجنٹائن فائنل میں جرمنی سے ہار گیا تھا۔
مزید پڑھیں: میسی کی فٹنس کا کمال، ورلڈ کپ فٹبال فائنل کھیلنے والے دوسرے معمر ترین کھلاڑی بن گئے
ورلڈ کپ میں میسی نے 15 مختلف ممالک کے خلاف گول کیے، ناک آؤٹ مرحلے میں 17 مرتبہ (7 گول، 10 اسسٹ) براہِ راست گول میں حصہ ڈالا، ورلڈ کپ کی تاریخ میں میسی نے پنالٹی ایریا کے باہر سے 6 گول اسکور کیے، جو 1966 کے بعد کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔

اگرچہ اس مرتبہ عالمی کپ کی ٹرافی ان کے ہاتھ نہ آسکی، لیکن ان کا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ بعض کھلاڑی صرف میچ نہیں جیتتے، وہ پورے کھیل کی تاریخ بدل دیتے ہیں۔ 6 ورلڈ کپ، 3 فائنلز، ایک عالمی ٹائٹل اور ریکارڈز کا انبار، لیونل میسی نے فٹبال کی دنیا میں اپنی میراث ایسی چھوڑ دی ہے جسے آنے والے برسوں تک عظمت کی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














