کیا مصنوعی ذہانت اب لاکھوں کھجور کے درختوں کو تباہی سے بچا لے گی؟

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاکھوں کھجور کے درختوں کو تباہ کرنے والے خطرناک کیڑے ریڈ پام ویول (Red Palm Weevil) کے خلاف ایک انجینئر نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید ٹیکنالوجی تیار کرلی جس کا مقصد کسانوں کو بروقت اس خطرے سے آگاہ کرنا اور فصلوں کو نقصان سے بچانا ہے۔

اردن سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ انجینئر زید سینقروت نے ابوظبی میں قائم اپنی کمپنی Palmear کے ذریعے ایسی پیٹنٹ شدہ AI-Acoustics ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جو آوازوں کا تجزیہ کرکے کھجور کے درختوں میں ریڈ پام ویول کی موجودگی کا ابتدائی مرحلے میں پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

زید سینقروت کے مطابق انہوں نے کھجور کے باغات پر کام کے دوران محسوس کیا کہ ریڈ پام ویول کی وجہ سے لاکھوں درخت تباہ ہو رہے ہیں جس سے نہ صرف خطے کی ثقافتی شناخت بلکہ کسانوں کی آمدنی اور غذائی تحفظ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں اس مسئلے کا مؤثر حل نظر نہیں آیا تو انہوں نے خود اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی کا ابتدائی مصنوعی ذہانت کا ماڈل لیبارٹری میں تو کامیاب رہا تاہم حقیقی ماحول میں مختلف موسمی حالات اور قدرتی آوازوں کے باعث اس کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کمپنی نے حقیقی ماحول سے سات لاکھ منٹ سے زائد آڈیو ڈیٹا جمع کیا جس کے بعد نظام کی درستگی اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔

یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟

زید سینقروت کا کہنا تھا کہ Palmear نے چار برس تک اپنی ٹیکنالوجی پر مسلسل کام کیا جس کے بعد کسانوں نے اس کے مثبت نتائج کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کسانوں کے ایک حقیقی مسئلے کا حل بن رہی ہے اور ان کے روزگار کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی کے قیام کے لیے سرمایہ ذاتی وسائل، دوستوں اور اہل خانہ، اینجل سرمایہ کاروں، کارپوریٹ سرمایہ کاروں اور وینچر کیپیٹل کے ذریعے حاصل کیا گیا جبکہ محمد بن راشد انوویشن فنڈ نے بھی کمپنی کی کاروباری حکمت عملی کو بہتر بنانے میں معاونت فراہم کی۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے

زید سینقروت 2019 میں ابوظبی منتقل ہوئے اور انہوں نے متحدہ عرب امارات کو اپنی کمپنی کا مرکز بنانے کی وجہ یہاں کا سازگار کاروباری ماحول، جدید ریگولیٹری نظام اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو قرار دیا۔

انہوں نے بتایا کہ Palmear کا ہدف آئندہ پانچ برسوں میں دنیا بھر کے لاکھوں کسانوں تک اپنی ٹیکنالوجی پہنچانا اور زرعی و ماحولیاتی انٹیلی جنس کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں پردہ پوش مسلمان خواتین کو کس طرح اے آئی کے ذریعے بدنام کیا جا رہا ہے؟

اپنے تجربے کی روشنی میں انہوں نے نئے کاروبار شروع کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ کسی ایسے مسئلے کا حل پیش کر رہے ہیں جس کے لیے لوگ ادائیگی کرنے پر آمادہ ہوں تو انہیں مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہارنی چاہیے، کیونکہ اکثر کامیابی اس وقت قریب ہوتی ہے جب انسان مایوسی محسوس کر رہا ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی اے اور ایئر فرانس کا اشتراک، ایک ہی ٹکٹ پر یورپ کے 21 شہروں کا سفر ممکن

راول ڈیم صفائی مہم، 200 سے زیادہ رضاکاروں کی شرکت، 2 ٹن کچرا اٹھا لیا

پاکستان میں مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ’آئی آر ایف پیس بلڈر فورم‘ اگست میں شروع ہوگا

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کردیا گیا

ویڈیو

اسحاق ڈار کی فلپائن میں سری لنکا اور مصر کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتیں

پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

کالم / تجزیہ

مزید عدالتیں یا بہتر انصاف؟

فلم تھری ایڈیٹس کے حقیقی رانچھو کی اصل جنگ

کشمیر انتخابات: تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے