آئرلینڈ کے مغربی ساحل پر پہلی مرتبہ ایک نایاب گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملنے کے بعد سائنسدانوں کو دنیا کے طویل ترین عرصے تک زندہ رہنے والے فقاری (ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے) جانور کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وہیل شارک ریڈ سی کے ماحولیاتی توازن کے لیے ناگزیر، عالمی شارک ڈے پر ماہرین کا پیغام
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شارک تقریباً 150 سے 200 سال عمر کی تھی تاہم اس نسل کی شارک 400 سال یا اس سے بھی زیادہ عمر تک زندہ رہ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اپریل 2026 میں آئرلینڈ کے کاؤنٹی سلائگو کے ساحل پر تقریباً 3 میٹر (10 فٹ) لمبی گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملی۔ یہ آئرلینڈ میں اس نوع کی پہلی ریکارڈ شدہ شارک ہے جو ساحل پر آ لگی۔
آئرش وہیل اینڈ ڈولفن گروپ سے تعلق رکھنے والی بحری حیاتیات کی ماہر ایملی ڈی لوس نے کہا کہ اس شارک کو دیکھ کر تمام محققین حیران رہ گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سوچ کر ہی انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ جانور ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ زندہ رہا اور اس دوران دنیا میں کتنی بڑی تبدیلیاں دیکھ چکا ہوگا۔
ملکہ وکٹوریہ کے دور میں پیدا ہوئی تھی
ماہرین کے مطابق اس شارک کی جسامت سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ کم از کم 150 سال پرانی تھی یعنی اس کی پیدائش اس زمانے میں ہوئی تھی جب برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کی حکومت تھی، امریکا میں ابراہم لنکن صدر تھے، سمندروں میں بادبانی جہاز چلتے تھے اور گاڑی ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئی تھی۔
مزید پڑھیے: سمندر کی گہرائیوں میں چھپے راز، سائنسدانوں نے گھوسٹ شارک کی نئی نسل دریافت کر لی
تاہم سائنسدانوں کے مطابق گرین لینڈ شارک کے معیار کے لحاظ سے یہ عمر زیادہ نہیں سمجھی جاتی کیونکہ یہ مچھلی تقریباً 150 سال کی عمر میں بالغ ہوتی ہے اور اسی کے بعد افزائش نسل شروع کرتی ہے۔
دنیا کا سب سے طویل عمر والا فقاری جانور
گرین لینڈ شارک کو دنیا کا سب سے زیادہ عمر پانے والا فقاری (یا ورٹیبریٹس) جانور سمجھا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اس کی عمر 300 سے 500 سال کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ تر تحقیق تقریباً 400 سال کی اوسط عمر کی نشاندہی کرتی ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج سمندر میں تیرنے والی بعض گرین لینڈ شارکس کی پیدائش ولیم شیکسپیئر کے دور میں ہوئی ہو۔
ساحل پر آنے کے بعد پوسٹ مارٹم
شارک کا وزن 200 کلوگرام سے زیادہ تھا جسے کرین کی مدد سے ویٹرنری لیبارٹری منتقل کیا گیا جہاں مختلف اداروں کے سائنسدانوں نے اس کا تفصیلی پوسٹ مارٹم (نی کروپسی) کیا۔
تحقیقی ٹیم نے خصوصی حفاظتی لباس، دستانے اور ماسک پہن کر شارک کے تمام اعضا کا معائنہ کیا کیونکہ اتنی پرانی مخلوق کے جسم میں ایسے جراثیم یا وائرس موجود ہونے کا امکان بھی خارج نہیں کیا جا سکتا جو کئی دہائیوں یا صدیوں سے محفوظ رہے ہوں۔
موت کی وجہ تاحال معمہ
سائنسدانوں نے شارک کے جسم پر مچھلی پکڑنے والے جال یا کسی چوٹ کے آثار تلاش کیے تاہم انہیں کوئی واضح زخم نہیں ملا۔
ماہرین کے مطابق ممکن ہے شارک کسی اندرونی بیماری کا شکار ہوئی ہو تاہم اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے مختلف اعضا اور ٹشوز کے نمونوں کا لیبارٹری میں مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
انتہائی پراسرار مخلوق
گرین لینڈ شارک شمالی بحر اوقیانوس اور قطب شمالی کے برفیلے پانیوں میں پائی جاتی ہے۔
یہ بہت آہستہ تیرنے والی شارک ہے جو زیادہ تر مردہ جانوروں کو کھاتی ہے تاہم بعض اوقات زندہ شکار، خصوصاً سیل مچھلیوں کو بھی پکڑ لیتی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی مارکیٹوں میں شارک کے گوشت میں جعلسازی، نایاب اقسام بھی دسترخوان تک پہنچ گئیں
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کے جسم میں موجود مخصوص کیمیائی مادے قدرتی اینٹی فریز کا کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ شدید سرد پانی میں بھی زندہ رہتی ہے تاہم یہی مادے اس کے گوشت کو زہریلا بھی بنا دیتے ہیں۔
اب بھی کئی راز پردے میں ہیں
سمندری حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی بڑی شارک کے بارے میں آج بھی بنیادی معلومات موجود نہیں۔
ابھی تک سائنسدان یہ نہیں جان سکے کہ یہ شارک کہاں ملاپ کرتی ہے، کہاں بچوں کو جنم دیتی ہے، ایک بار میں کتنے بچے پیدا کرتی ہے یا کتنے عرصے بعد افزائش نسل کرتی ہے۔
اسی وجہ سے دنیا میں موجود گرین لینڈ شارکس کی درست تعداد کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں جس کے باعث ان کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
آنکھوں نے بھی سائنسدانوں کو حیران کر دیا
پوسٹ مارٹم کے دوران شارک کی آنکھیں بھی نکالی گئیں تاکہ ان کے عدسوں کے ذریعے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے اس کی درست عمر معلوم کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: شارک نارنجی کیوں ہے؟ سائنسدانوں نے راز کھول دیا
حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گرین لینڈ شارک کی بینائی پہلے سمجھی جانے والی کمزور نہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر مؤثر ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کی آنکھیں انتہائی کم روشنی میں بھی کام کرنے کے لیے قدرتی طور پر ڈھلی ہوئی ہیں اور ایک صدی سے زیادہ عمر کے بعد بھی ان کے خلیات تقریباً مکمل طور پر فعال رہتے ہیں۔
34 کلوگرام کا دل بھی صدیوں تک کام کرتا رہتا ہے
تحقیقی ٹیم نے شارک کا تقریباً 34 کلوگرام وزنی دل بھی نکالا جو انسانی دل کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ بڑا تھا۔
حالیہ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ اگرچہ اس کے دل پر بڑھاپے کے آثار موجود ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مؤثر انداز میں کام کرتا رہتا ہے۔
مزید پڑھیے: سمندری تیزابیت شارک مچھلیوں کی ‘سب سے بڑی طاقت’ کو کیسے نقصان پہنچا رہی ہے؟
سائنسدانوں کے مطابق ممکن ہے گرین لینڈ شارک کے جسم میں ایسے حیاتیاتی نظام موجود ہوں جو ڈی این اے کی مرمت کرتے رہتے ہیں اور بڑھاپے کے اثرات کو بہت سست کر دیتے ہیں یہی وجہ اس کی غیرمعمولی طویل عمر ہو سکتی ہے۔
سائنسدانوں کے لیے قیمتی موقع
آئرلینڈ کے نیشنل میوزیم نے اعلان کیا ہے کہ اس شارک کو محفوظ کر کے مستقبل میں عوامی نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا تاکہ لوگ دنیا کی اس پراسرار اور نایاب مخلوق کے بارے میں جان سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے قریب سمندر میں نایاب شارک کی موجودگی کا انکشاف
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس شارک کی موت افسوسناک ہے لیکن اس کے جسم سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں نہ صرف اس نایاب نسل کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گی بلکہ ممکن ہے انسانوں میں بڑھاپے اور طویل عمر کے راز سمجھنے میں بھی نئی پیش رفت کا سبب بنیں۔














