امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 سے امریکا میں درآمد کی جانے والی تمام جنیرک ادویات پر آئندہ 2 سال تک کوئی درآمدی ٹیرف عائد نہیں کیا جائے گا، تاہم اس کے بعد ایک سال کے لیے 100 فیصد اور پھر مستقل طور پر 200 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اس فیصلے کا مقصد جنیرک ادویات کی تیاری کو دوبارہ امریکا منتقل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کمپنیاں مقررہ مدت کے دوران امریکا میں اپنے پیداواری پلانٹس اور دیگر سہولیات قائم نہیں کریں گی، انہیں بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی دوا ساز کمپنیوں پر دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ امریکی صارفین کے لیے ادویات کی قیمتیں دیگر ترقی یافتہ ممالک کے برابر لائیں۔ اسی مقصد کے تحت حکومت نے موسٹ فیورڈ نیشن قیمتوں کی پالیسی متعارف کرائی تھی۔
🚨 NOW: President Trump announces 2 YEARS of 0% PERCENT TARIFFS on generic drugs coming into America as part of an effort to lower prices and re-shore pharma manufacturing to America
After 2 years — 100% and 200% TARIFFS for companies who refuse. LFG! 🔥
“This is done in order… pic.twitter.com/Ts5HbtapGQ
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) July 21, 2026
امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے مطابق امریکا میں فروخت ہونے والی ادویات میں 90 فیصد سے زیادہ جنیرک ادویات پر مشتمل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ نئی ٹیرف پالیسی کا اطلاق پیٹنٹ یافتہ، برانڈڈ یا جدید (Innovative) ادویات پر نہیں ہوگا اور ان کے لیے موجودہ پالیسی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:ایران نے معاہدہ توڑ دیا، اب سخت کارروائیاں جاری رہیں گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
یاد رہے کہ گزشتہ سال دنیا کی بڑی دوا ساز کمپنیوں نے امریکی حکومت کے ساتھ ایسے معاہدے کیے تھے جن کے تحت اربوں ڈالر مالیت کی ادویات کو ٹیرف سے استثنا دیا گیا تھا، جبکہ اپریل 2026 میں صدر ٹرمپ نے ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے برانڈڈ درآمدی ادویات پر بھی 100 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، الا یہ کہ متعلقہ کمپنیاں امریکی حکومت کے ساتھ ادویات کی قیمتوں سے متعلق معاہدہ کریں یا امریکا میں ہی اپنی مصنوعات تیار کرنے کا وعدہ کریں۔













