ہڈیوں میں مسلسل رہنے والا درد، جوڑوں کی سوجن یا معمولی چوٹ پر ہڈی کا ٹوٹ جانا بعض اوقات ہڈیوں کے کینسر کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں تاہم یہ علامات دیگر آرتھوپیڈک بیماریوں سے ملتی جلتی ہونے کے باعث اکثر مریض بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں۔
آرتھو آنکولوجسٹ ڈاکٹر نکھل ٹنڈن کے مطابق بیشتر افراد ہڈیوں کے درد کو بڑھتی عمر، گٹھیا، جسمانی تھکن یا پرانی چوٹ کا نتیجہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں جبکہ بعض کیسز میں یہی علامات ہڈیوں کے کینسر کی نشاندہی کر رہی ہوتی ہیں۔
ہڈیوں کے کینسر کی ابتدائی علامات
ڈاکٹر ٹنڈن کے مطابق ہڈیوں کے کینسر کی ابتدائی علامات دیگر آرتھوپیڈک بیماریوں سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں، جن میں شامل ہیں۔
کسی ایک مخصوص ہڈی میں مسلسل درد یا درد کا برقرار رہنا
جوڑوں میں سوجن
جسمانی حرکت یا جوڑوں کی حرکت میں کمی
معمولی چوٹ لگنے پر بھی ہڈی کا ٹوٹ جانا (فریکچر)
چونکہ یہ علامات عام بیماریوں میں بھی دیکھی جاتی ہیں اس لیے اکثر لوگ انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتے اور بیماری کی تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر کے علاج میں اہم پیش رفت، نئی ادویات اور طریقۂ علاج نے امید جگا دی
ڈاکٹر نے مزید بتایا کہ اکثر درد وقت کے ساتھ شدید ہو جاتا ہے خاص طور پر رات کے وقت زیادہ محسوس ہوتا ہے اور آرام کرنے یا عام درد کش ادویات لینے سے بھی ختم نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ خود ہی دوائیں استعمال کرتے رہتے ہیں یا درد کے خود بخود ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔
ہڈیوں کے کینسر کی بروقت تشخیص کیسے ممکن ہے؟
اگرچہ کوئی بھی طرزِ زندگی ہڈیوں کے کینسر سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر سکتا لیکن چند احتیاطی تدابیر بیماری کی جلد شناخت میں مدد دے سکتی ہیں۔
اگر ہڈیوں کا درد کئی ہفتوں تک بغیر کسی واضح وجہ کے برقرار رہے تو اسے ہرگز نظر انداز نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیں: شرمندگی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے، بڑی آنت کے کینسر کی وہ نشانیاں جو آپ کو معلوم ہونی چاہیں
خود علاج (Self-medication) سے گریز کریں۔ مسلسل درد یا سوجن کی صورت میں ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں اور ضرورت پڑنے پر ایکسرے، ایم آر آئی یا دیگر طبی ٹیسٹ کرائیں۔
باقاعدہ طبی معائنہ اور بروقت تشخیص بیماری کو ابتدائی مرحلے میں پکڑنے میں مدد دے سکتی ہے جس سے علاج کے امکانات بہتر ہو جاتے ہیں۔
ڈاکٹر نکھل ٹنڈن کے مطابق ’اگرچہ ہڈیوں کا کینسر ایک نایاب بیماری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ علامات کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اپنے جسم میں آنے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر توجہ دینا اور تشخیص میں تاخیر نہ کرنا کامیاب علاج کے لیے انتہائی اہم ہے‘۔














