ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ: حقائق سے روگردانی اور طالبان کا بیانیہ پیش کیا گیا، پاکستان کا مؤقف

بدھ 22 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ پر شدید تحفظات سامنے آئے ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ رپورٹ میں 16 اور 17 مارچ کو پاکستان کی جانب سے افغانستان میں کیے گئے فضائی حملوں سے متعلق اہم شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے طالبان کے بیانیے کو دہرایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایمنسٹی رپورٹ مسترد: دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا پس منظر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، پاکستان

دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان نے یہ کارروائی معتبر انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی تھی جس کا ہدف مبینہ طور پر کیمپ فینکس میں قائم ڈرون ورکشاپ اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہ تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمپ فینکس سنہ 2003 میں نیٹو کی جانب سے ایک فوجی اڈے کے طور پر قائم کیا گیا تھا جبکہ امید ڈرگ بحالی مرکز سنہ 2010 میں اسی کمپاؤنڈ کے ایک حصے میں قائم کیا گیا۔ بعد ازاں سنہ 2016 میں تقریباً 5.6 کلومیٹر فضائی اور 20 کلومیٹر زمینی فاصلے پر نیا امید اسپتال قائم ہونے کے بعد پرانا مرکز بند کر دیا گیا تھا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق فضائی کارروائی کے وقت پرانے امید مرکز کی بیرکس کو طالبان فوج کی قطعہ یرموک کے تقریباً 350 اہلکاروں کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا تاہم کارروائی کا اصل ہدف بیرکس نہیں بلکہ اس کے قریب واقع ڈرون اسٹوریج اور ورکشاپس تھیں۔

مزید پڑھیے: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جنوبی ایشیا دفتر کے بھارتی مفادات سے متاثر ہونے کے دعوے زیرگردش

بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود میں ہونے والے ثانوی دھماکوں اور آگ کے باعث پرانی بیرکس کو نقصان پہنچا جس سے وہاں موجود طالبان اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق طالبان حکومت نے بند پڑے امید مرکز کو پروپیگنڈا کے لیے استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حملے میں عام شہری مارے گئے جبکہ حقیقت میں ہلاک ہونے والے افراد طالبان کے فوجی تھے۔

اس حوالے سے ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں بھی نمایاں تضادات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق طالبان نے ابتدائی طور پر 408 شہریوں کی ہلاکت اور 165 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ بعد میں اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان نے 143 ہلاکتوں کی اطلاع دی تاہم انہیں شہری قرار نہیں دیا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ واقعے کے بعد صرف تقریباً 50 افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔

پاکستانی مؤقف میں ایمنسٹی انٹرنیشنل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے آزادانہ اور قابل اعتماد تحقیقات کے بغیر طالبان کے دعوؤں کو اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا، جس سے رپورٹ کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حقائق سے ہٹ کر تیار کی جانے والی ایسی رپورٹس دہشتگرد گروہوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بن سکتی ہیں کیونکہ اس سے انہیں شہری آبادی کے درمیان اپنی تنصیبات اور اسلحہ منتقل کرنے کا جواز ملتا ہے۔

مزید پڑھیں: یمن: امریکی حملے میں 61 افریقی مہاجرین کی ہلاکت جنگی جرم ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

پاکستانی مؤقف کے مطابق طالبان حکومت پہلے ہی ڈرونز اور حساس گولہ بارود کے ذخائر شہری آبادی کے اندر منتقل کرنے میں مصروف ہے اور اس رجحان کو بین الاقوامی اداروں کی مبینہ یکطرفہ رپورٹس تقویت دے سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میر رضا قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ چیلنج، کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے؟

پاکستان میں اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کا قیام: پٹرولیم ڈویژن نے امکانات کا جائزہ شروع کر دیا

ویمنز ایشیا کپ 2026: قومی خواتین ٹیم کا مردانہ اسکواڈ کے ساتھ پریکٹس میچ

آزاد کشمیر کے 17ویں وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری، کون ہوگا قائد ایوان؟ نام سامنے آگیا

براڈ پیک برفانی تودے میں جاں بحق امریکی کوہ پیما کی میت اسکردو منتقل

ویڈیو

اپوزیشن کو بار بار مذاکرات کی دعوت دے کر اب تھک چکا ہوں، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق

دور افتادہ علاقوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے معاون فاؤنڈیشن کی کاوشیں

فیلڈ مارشل دنیا کو تباہی سے بچانے کے مشن پر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی راہیں جدا؟ مولانا کا یہودی ایجنٹ سے غیر فطری اتحاد

کالم / تجزیہ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار

مولانا کیا چاہتے ہیں؟

کیا شہباز حکومت توہینِ عدالت کے ’جرم‘ میں گھر جا سکتی ہے؟