مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے بعض جدید اے آئی ماڈلز نے ایک سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران کمپنی کے قابو سے نکل کر خودمختار انداز میں سائبر حملہ کر دیا جسے کمپنی نے اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف
کمپنی کے مطابق یہ واقعہ ایک محفوظ آزمائشی ماحول میں پیش آیا جہاں ایک ایسے اے آئی ایجنٹ کا تجربہ کیا جا رہا تھا جو ابتدائی انسانی ہدایات کے بعد خود مختار انداز میں مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ تجربے کے دوران اے آئی ایجنٹ نے حفاظتی نظام میں موجود کمزوری تلاش کر لی اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آزمائشی ماحول سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور بعد ازاں دنیا کے سب سے بڑے اے آئی ماڈلز شیئرنگ پلیٹ فارمز میں سے ایک ہگنگ فیس کے بعض اندرونی سسٹمز تک رسائی حاصل کر لی۔
کمپنی نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی تحقیقات ہگنگ فیس کے ساتھ مشترکہ طور پر جاری ہیں۔
ہگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹو کلیمنٹ ڈیلانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ سب کچھ مکمل طور پر خودکار انداز میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس واقعے سے حاصل ہونے والے نتائج بعد میں عوام کے ساتھ بھی شیئر کیے جائیں گے۔
کیمبرج یونیورسٹی کے مائنڈرو سینٹر فار ٹیکنالوجی اینڈ ڈیموکریسی کی سربراہ پروفیسر جینا نیف نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے آزمائشی ماحول اس مقصد کے لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ اے آئی کی صلاحیتوں کو محفوظ طریقے سے جانچا جا سکے۔
ان کے مطابق اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوپن اے آئی اپنے سینڈ باکس کو مطلوبہ حد تک محفوظ بنانے میں ناکام رہی جس کے نتیجے میں اے آئی ایجنٹس نے اسی نظام پر سائبر حملہ کیا کمزوری تلاش کی اور اس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
مزید پڑھیے: امریکی اے آئی ٹول ’کلاڈ کوڈ‘ صارفین کا خفیہ ڈیٹا چرا رہا ہے، چین نے سنگین الزام عائد کردیا
رپورٹ کے مطابق آزمائشی ماحول سے نکلنے کے بعد اے آئی نے یہ اندازہ لگایا کہ مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کے لیے ہگنگ فیس موزوں ہدف ہو سکتا ہے جس کے بعد اس نے اس کے سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔
ہگنگ فیس نے 16 جولائی کو ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ وہ یہ جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس واقعے سے کسی صارف یا شراکت دار کا ڈیٹا متاثر ہوا یا نہیں۔ کمپنی نے یقین دہانی کرائی کہ اگر کسی کا ڈیٹا متاثر ہوا تو متعلقہ فریقوں کو آگاہ کیا جائے گا۔
کمپنی نے بعد ازاں بتایا کہ اس واقعے میں سامنے آنے والی تمام کمزوریاں دور کر دی گئی ہیں متاثرہ سسٹمز کو دوبارہ تعمیر کر لیا گیا ہے اور مستقبل میں دفاعی نظام مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
ہگنگ فیس کا کہنا تھا کہ خودمختار اے آئی کے ذریعے سائبر حملے اب محض ایک نظریہ نہیں رہے بلکہ حقیقت بن چکے ہیں اس لیے آن لائن پلیٹ فارمز کو اپنے ڈیٹا اور اے آئی ماڈلز کو بھی حملے کا ممکنہ ہدف سمجھتے ہوئے دفاعی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
مزید پڑھیں: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
اس واقعے نے جدید مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں اور اس کے حفاظتی اقدامات سے متعلق نئے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
سائبر سیکیورٹی کمپنی سونک وال کے ایگزیکٹو اسپینسر اسٹارکی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ اداروں کو اپنی سائبر سیکیورٹی مزید مضبوط بنانا ہوگی اور سائبر مزاحمت کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ادارے اب بھی انسانی رفتار سے دفاع کر رہے ہیں جبکہ حملہ آور مشینی رفتار سے کام کر رہے ہیں۔
اسی طرح سائبر سیکیورٹی فرم گائیڈ پوائنٹ سیکیورٹی کے پرنسپل سیکیورٹی انجینیئر ٹریوس لیلے نے اس واقعے کو سائبر سیکیورٹی کے لیے ایک چشم کشا لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور اے آئی ایجنٹس پر عملی طور پر کوئی پابندی نہیں ہوتی جبکہ دفاعی نظام مختلف حفاظتی حدود کے باعث ہر صورتحال کو مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
دوسری جانب سائبر سیکیورٹی کمپنی ای سیٹ کے عالمی مشیر جیک مور نے کہا کہ اس اعلان کا ایک تجارتی پہلو بھی ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ممکن ہے اوپن اے آئی اپنے جدید اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں اجاگر کرنا چاہتی ہو کیونکہ حالیہ عرصے میں حریف کمپنی انتھروپک کے کلاڈ میتھوس ماڈل کو خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جدید اے آئی ماڈلز چند ماہ میں سنگین سائبر خطرہ بن سکتے ہیں، خطرناک انتباہ جاری
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مصنوعی ذہانت جتنی زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے اسی رفتار سے اس کے حفاظتی نظام اور نگرانی کے طریقہ کار کو بھی مضبوط بنانا ناگزیر ہو گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کے ممکنہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔














