نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، جبکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی اپنی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا۔
آسیان ریجنل فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ساتھ بھرپور تعاون کا خواہاں ہے اور منیلا پلان آف ایکشن 2036 پر مؤثر عملدرآمد کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آسیان کے وژن کی حمایت میں ثابت قدم ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے اور عالمی برادری کو بین الاقوامی قانون کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور اس سے متعلق یکطرفہ اقدامات نہ صرف تشویشناک اور اشتعال انگیز ہیں بلکہ ان سے 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔
Deputy Prime Minister and Foreign Minister Ishaq Dar said at the ASEAN Regional Forum Ministerial Meeting that Pakistan remains committed to regional peace, stability and multilateral cooperation, while calling for Kashmir’s resolution, diplomacy over conflict, support for… pic.twitter.com/3hdfZAwqfL
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) July 23, 2026
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دے چکا ہے اور 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے، تاہم ملک ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں:خلیج تعاون کونسل اور آسیان نے 1967 والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر دیا
اسحاق ڈار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کیا اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور برطانیہ کا امن، سفارتکاری اور علاقائی استحکام کے فروغ پر زور
ان کا کہنا تھا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتکاری و مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں، کیونکہ خودمختاری، باہمی احترام اور بات چیت ہی مشترکہ اور پرامن مستقبل کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے غزہ کی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا اور 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔













