پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے دہشتگردی سے متعلق الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت میں بھارت خود دہشتگردی کی سرپرستی اور مالی معاونت میں ملوث ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مشن کے فرسٹ سیکریٹری انصار شاہ نے سلامتی کونسل میں ’قدرتی وسائل کی حکمرانی‘ سے متعلق مباحثے کے دوران بھارتی سفیر ہریش پروتھانی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی سے متعلق بھارت کے بے بنیاد دعوے دراصل پاکستان کے خلاف اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں اور ان کی مالی معاونت پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی مضبوط حمایت کا اعادہ
اس سے قبل اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں بھارت پر الزام عائد کیا کہ وہ بالادستی رکھنے والے دریا بردار ملک کی حیثیت کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پانی کو سیاسی ہتھیار بنا رہا ہے اور 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیرقانونی طور پر معطل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں اس نوعیت کی کسی کارروائی کی کوئی گنجائش موجود نہیں، نہ ہی بین الاقوامی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔
Right of Reply by First Secretary Ansar Shah
In Response to Remarks by Indian Representative
At the Security Council High-Level Open Debate
(22 July 2026)
*******President,
2. Pakistan is compelled to take the floor again to respond to India’s misleading statement, which is a… pic.twitter.com/AqbjPsz8qg
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
ان کے بقول بھارت کا یہ اقدام پاکستان کے 24 کروڑ سے زائد عوام کے روزگار اور فلاح و بہبود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ یہ صورتحال جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے تناظر میں پیدا ہوئی ہے، جو جنوبی ایشیا میں پہلے ہی ایک حساس معاملہ ہے، اور اس کے باعث علاقائی و عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اقوام متحدہ میں اصلاحات ناگزیر، پاکستان کا نئے سیکریٹری جنرل سے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کی امید کا اظہار
جواب میں بھارتی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی پوزیشن واضح ہے اور باہمی اعتماد و خیرسگالی کے بغیر تعاون ممکن نہیں، جبکہ انہوں نے سرحد پار دہشتگردی کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا۔ بھارتی سفیر نے جموں و کشمیر کو بھارت کا ’اٹوٹ انگ‘ بھی قرار دیا۔
بھارتی مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے انصار شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے معطل کرنے کی کوئی شق موجود نہیں، اس لیے بھارت کا اقدام مکمل طور پر غیرقانونی ہے۔
مزید پڑھیں: عالمی امن کے لیے اقوام متحدہ ناگزیر، وزیراعظم کی میکی سال سے ملاقات میں پاکستان کے مؤقف کا اعادہ
انہوں نے کہا کہ ثالثی عدالت بھی اس بات کی توثیق کر چکی ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور نافذ العمل ہے، جبکہ اس کے تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن رہی ہے۔
مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، اسحاق ڈار کا آسیان فورم سے خطاب
دہشتگردی کے حوالے سے پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہ، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کی مجید بریگیڈ شامل ہیں، پاکستان میں ہزاروں شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔
انصار شاہ نے مزید کہا کہ بھارت کی سرحد پار ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے کے شواہد بھی دنیا کے سامنے آ چکے ہیں، جن میں شمالی امریکا میں ہونے والی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ریاستی دہشتگردی کا مرتکب ملک ہے، جہاں کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جموں و کشمیر نہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا اور نہ ہی ہے، انہوں نے کہا کہ قابض قوت کے کسی بھی یکطرفہ یا غیرقانونی اقدام سے جموں و کشمیر کی تاریخی، قانونی اور متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ بھارت کو اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنایا جائے، بجائے اس کے کہ وہ ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تسلیم شدہ حقائق سے انکار کرتا رہے۔













