یورپی یونین نے روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں کا 21واں پیکج منظور کر لیا ہے، جس کے تحت ماسکو کے مالیاتی نظام، فوجی و دفاعی صنعتی شعبے اور توانائی کے سیکٹر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: روس میں ایندھن کا بحران سائبیریا تک پھیل گیا
یورپی یونین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد روس کی جنگی معیشت کو کمزور کرنا اور ان مالی وسائل کو محدود کرنا ہے جن کے ذریعے ماسکو اپنی جنگی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
We have agreed on the 21st sanctions package against Russia.
It delivers sweeping measures targeting Moscow’s financial system, its military-industrial complex and energy sector, that keep Russia's war economy running.
We are hitting Putin where it hurts most: cutting off the…
— Kaja Kallas (@kajakallas) July 23, 2026
بیان کے مطابق نئی پابندیوں کے تحت روس کے مالیاتی نظام، فوجی و صنعتی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے پر وسیع پیمانے پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ جنگ کے لیے درکار مالی اور معاشی معاونت کو متاثر کیا جا سکے۔
یورپی یونین نے کہا کہ ان اقدامات کے ذریعے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر وہاں دباؤ ڈالا جا رہا ہے جہاں اس کا سب سے زیادہ اثر پڑ سکتا ہے، یعنی ان مالی ذرائع کو محدود کرکے جن پر روس اپنی جنگ جاری رکھنے کے لیے انحصار کرتا ہے۔
Ambassadors from the 27 EU member states have reached a preliminary agreement regarding the 21st sanctions package against Russia. These latest measures will freeze the price cap on Russian crude at 44.1 dollars per barrel for a year. pic.twitter.com/fKTXtTLU3X
— TVP World (@TVPWorld_com) July 23, 2026
یورپی یونین نے واضح کیا کہ پابندیوں کا یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوگا اور روس کی جانب سے کسی بھی مزید کشیدگی یا جارحانہ اقدام کی صورت میں مزید اقدامات کی تیاری بھی جاری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین آئندہ کسی بھی ممکنہ روسی پیش رفت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے گی۔














