سپریم کورٹ کی جانب سے نیب مقدمات میں ضمانت سمیت ضمنی درخواستوں کی سماعت سے متعلق دائرۂ اختیار کے فیصلے کو آئینی اور قانونی حلقوں میں ایک اہم نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف آئین کی بالادستی، عدالتی نظم و ضبط اور قانون کی ہم آہنگ تشریح کو مضبوط بناتا ہے بلکہ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کے آئینی کردار کو بھی واضح کرتا ہے۔ ماہرین نے اس فیصلے کو ’قانونی شاہکار‘ قرار دیتے ہوئے اس کے حق میں 10 بنیادی نکات پیش کیے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کی سب سے اہم خصوصیت آئین کی بالادستی کا تحفظ ہے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ کسی اختیار سے دستبرداری نہیں بلکہ آئین کی مکمل پاسداری کی مثال ہے۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 175(2) کے مطابق کوئی بھی عدالت صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہے جو اسے آئین یا قانون کے ذریعے دیا گیا ہو۔ عدالت نے وہ اختیار استعمال کرنے سے انکار کیا جو اسے حاصل نہیں تھا، اور اس طرح عدالتی ضبط، آئینی وفاداری اور خود احتسابی کی بہترین مثال قائم کی۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی
ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے ’ایک مقدمہ، ایک ہی فورم‘ کے اصول کو بھی برقرار رکھا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا کہ یہ قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے کہ ایک ہی مقدمے کا مرکزی حصہ یعنی اپیل فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ میں زیرِ سماعت ہو جبکہ اسی مقدمے سے متعلق ضمانت یا دیگر متفرق درخواستیں سپریم کورٹ میں چلیں۔ ان کے مطابق یہ اصول عدالتی انتشار، تضادات اور متصادم فیصلوں سے بچاتا ہے اور انصاف کو منقسم ہونے نہیں دیتا۔
قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق عدالت نے ضمنی اختیار کے مسلمہ اصول پر انحصار کرتے ہوئے قرار دیا کہ ضمانت کی درخواست اپیل کا ایک ضمنی حصہ ہے، لہٰذا جہاں اصل اپیل سنی جائے گی وہیں اس سے متعلق تمام ضمنی معاملات بھی سنے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ دنیا بھر میں تسلیم شدہ بنیادی قانونی اصول ہے۔
ماہرین کے مطابق عدالت نے آرٹیکل 175F اور سیکشن 32A کی باہم مربوط یا ہم آہنگ تشریح کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں دفعات کا واضح مقصد نیب مقدمات میں اپیلوں اور ان سے متعلق تمام ضمنی معاملات کے لیے فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کو واحد اور خصوصی فورم بنانا ہے۔
قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ فیصلے میں ’اصل نوعیت‘ کے بین الاقوامی اصول کا بھی اطلاق کیا گیا۔ عدالت نے محض الفاظ تک محدود رہنے کے بجائے قانون ساز کے حقیقی مقصد کو مدنظر رکھا اور قرار دیا کہ قانون کا بنیادی مقصد نیب مقدمات کے لیے ایک متحدہ اپیلی فورم قائم کرنا تھا، جبکہ ضمانت کی درخواست اس فورم کی بنیادی قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتی۔
یہ بھی پڑھیں:باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
ماہرین کے مطابق عدالت نے فورم شاپنگ کی بھی حوصلہ شکنی کی اور اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ فریقین اپنی سہولت یا پسند کے مطابق عدالت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق جب قانون نے اختیار فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ کو دیا ہے تو کسی فریق کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی خواہش پر سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔ یہ فیصلہ قانون کی حکمرانی کو شخصی خواہشات پر فوقیت دیتا ہے۔
فیصلے کے حوالے سے ماہرین نے اس نکتے کو بھی اہم قرار دیا کہ عدالت نے واضح کیا کہ قانون میں خاموشی سے اختیار پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق سیکشن 32A میں ضمانت کا الگ سے ذکر نہ ہونا ہرگز یہ معنی نہیں رکھتا کہ سپریم کورٹ کا اختیار برقرار ہے، کیونکہ عدالتی اختیار ہمیشہ واضح اور مثبت قانونی الفاظ سے عطا کیا جاتا ہے، محض خاموشی یا عدمِ ذکر سے اختیار پیدا نہیں ہوتا۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت نے اپنے آئینی دائرۂ اختیار سے تجاوز نہ کرتے ہوئے عدالتی نظم و ضبط اور ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کی آئینی تقسیم کا بھی احترام کیا۔ ان کے بقول ایک ہی مقدمے پر 2 اعلیٰ ترین عدالتوں کا بیک وقت اختیار عدالتی انتشار اور آئینی بے ترتیبی کا باعث بن سکتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
ماہرین نے مزید کہا کہ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ’اپیل کی اجازت‘ اور ’حقِ اپیل‘ 2 مختلف قانونی تصورات ہیں۔ چونکہ سیکشن 32A فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ میں دوسری اپیل کا باقاعدہ قانونی حق فراہم کرتا ہے، اس لیے سپریم کورٹ کا ضمانت سمیت کسی بھی ضمنی معاملے میں مداخلت کرنا اس قانونی حق کو غیر مؤثر بنا سکتا تھا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ آئین و قانون کی پابندی کے ذریعے جمہوری اداروں اور عوامی اعتماد کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ ان کے بقول یہ اس بنیادی اصول کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جج صاحبان اپنے فیصلے عوامی جذبات، میڈیا کے دباؤ یا مقبولِ عام بیانیے کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف آئین اور قانون کے مطابق کرتے ہیں، اور یہی ایک بالغ، آزاد اور باوقار عدلیہ کی حقیقی پہچان ہے۔














