بھارت میں امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف کئی ہفتوں سے جاری احتجاج بالآخر حکومت اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
نئی دہلی میں بھارتی مرکزی وزیر جے پی نڈا اور وزیر مملکت جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی جے پی کے ترجمان نے کہاکہ حکومت نے جماعت کے تمام اہم مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، اس لیے ملک بھر کے مظاہرین سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا احتجاج پرامن انداز میں ختم کر دیں۔
مزید پڑھیں: پیپر لیک اسکینڈل پر مودی حکومت کو بڑا دھچکا، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی
ترجمان کے مطابق حکومت نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے سمیت دیگر مطالبات بھی منظور کر لیے ہیں۔
VIDEO | Delhi: CJP Protesters celebrate at Jantar Mantar as Dharmendra Pradhan resigns.
CJP leader Ashutosh Ranka says, “The government has agreed to withdraw all FIRs registered so far by Delhi Police or other agencies related to the protests. It has also been agreed that in… pic.twitter.com/6n4r4crtPe
— Press Trust of India (@PTI_News) July 25, 2026
انہوں نے بتایا کہ نیٹ (NEET) امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے گا، جبکہ احتجاجی تحریک سے وابستہ کارکنوں کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات بھی واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ حکومت نے تعلیمی اصلاحات کے لیے سی جے پی کے پیش کردہ پانچ نکاتی ایجنڈے سے بھی اصولی اتفاق کیا ہے، جبکہ اس سلسلے میں آئندہ بھی مذاکرات کا عمل جاری رہے گا تاکہ اصلاحات کو عملی شکل دی جا سکے۔
سی جے پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں جماعت کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی، جبکہ اس حوالے سے آئندہ منگل تک تحریری ضمانت بھی فراہم کی جائے گی۔
واضح رہے کہ مئی 2026 سے کاکروچ جنتا پارٹی امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے خلاف نئی دہلی میں مسلسل احتجاج کر رہی تھی۔ اسی تحریک کے دوران معروف بھارتی سماجی شخصیت سونم وانگچک نے 26 روز تک بھوک ہڑتال بھی کی۔
تحریک نے اس وقت شدت اختیار کی جب سی جے پی نے 20 جولائی کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی، جس پر ہزاروں نوجوان احتجاج میں شریک ہوئے۔
اس دوران بھارتی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ متعدد نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
مزید پڑھیں: کلاس روم سے سڑک تک، طلبہ نے مودی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے نوجوانوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی، تاہم مظاہرین وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر قائم رہے اور حکومت کی جانب سے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی پیشکش کو بھی مسترد کر دیا۔
اس احتجاج کے دوران بھارت کی مختلف اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی۔













