کلاس روم سے سڑک تک، طلبہ نے مودی سرکار کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا

منگل 21 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی نامی تحریک نے منگل کو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے تک اپنی احتجاجی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پیر کو نئی دہلی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوگئے۔

پیر کے روز ہزاروں مظاہرین بھارتی دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئے اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے ساتھ ساتھ امتحانی نظام میں وسیع اصلاحات کا مطالبہ دھرایا۔

یہ بھی پڑھیں: ’استعفیٰ دو ورنہ پارلیمنٹ اکھاڑ کربھارت کو نیپال بنا دیں گے‘، مودی حکومت کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا

یہ مظاہرہ سوشل میڈیا سے ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی تحریک کی طاقت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

مئی میں شروع ہونے والی اس تحریک نے سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی حاصل کیے ہیں اور اسے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی 2024 میں تیسری مدتِ اقتدار کے آغاز کے بعد ان کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔

تحریک کے رہنما آشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ’۔۔۔دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنا ہوگا۔‘

منگل کو بھی سینکڑوں مظاہرین جنتر منتر کے احتجاجی مقام پر موجود رہے، جہاں بیشتر شرکا نے صرف وزیرِ تعلیم کے استعفے ہی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ بھی دہرایا۔

پیر کو پولیس نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا۔

یہ گزشتہ تقریباً 5 برس کے دوران دہلی میں ہونے والے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ جموں و کشمیر کے کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ دہلی میں احتجاج پر کیوں مجبور ہوئے؟

دہلی پولیس کے مطابق مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں 178 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد سینیئر افسران بھی زخمی ہوئے۔

پولیس نے ایک بیان میں مظاہرین کے رویے کو ’بے قابو، جارحانہ اور پرتشدد‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جھڑپ کے دوران تقریباً 60 مظاہرین بھی زخمی ہوئے۔

دوسری جانب احتجاج کے منتظمین نے پولیس کی کارروائی کو ’اختیارات کا ناجائز استعمال‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سینکڑوں مظاہرین تشدد کا نشانہ بنے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رانکا نے نے اسے بھارتی جمہوریت کی تاریخ کا شرمناک دن قرار دیا ہے۔

’ایک حقیقی مسئلے پر احتجاج کرنے والے ایماندار طلبہ کو دہلی پولیس نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

رانکا نے بتایا کہ انہوں نے پیر کو مرکزی وزیر جے پی نڈا سے ملاقات بھی کی، تاہم حکومت نے اب تک ان کے مطالبات پر کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا۔

مزید پڑھیں: مودی سرکار کے خلاف طلبہ کی بغاوت، پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ، وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ

بھارت میں تیز معاشی ترقی کے باوجود لاکھوں نوجوان اب بھی مستقل اور مناسب آمدنی والی ملازمتیں حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ احتجاج حالیہ مہینوں میں سامنے آنے والے متعدد امتحانی اسکینڈلز کے بعد شروع ہوا، جنہوں نے ملک کے امتحانی نظام پر عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔

گزشتہ ماہ سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد 22 لاکھ میڈیکل طلبہ سے سخت سیکیورٹی میں دوبارہ امتحان لیا گیا، جبکہ اس سے قبل تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے امتحانات کے آن لائن مارکنگ سسٹم سے متعلق بھی ایک الگ تنازع سامنے آیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: اسلام آباد تینوں ممالک کے پرچموں اور برقی قمقموں سے جگمگا اٹھا

حکومت کا بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

جماعت اسلامی نے 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا، پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کی نئی تاریخ کا اعلان

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل ’ایسٹرا‘ میں خطرناک سیکیورٹی خدشات کا انکشاف، ڈیولپنگ کام عارضی معطل

میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

ویڈیو

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

وزیراعظم شہباز شریف مدینہ منورہ سے روانہ، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد مسجد نبویؐ میں حاضری

پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کے اعلان پر خیبر پختونخوا کے اراکین کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر