ماہرینِ فلکیات نے زمین سے صرف 65 نوری سال کے فاصلے پر موجود 4 ایسے ‘سفید بونے’ ستاروں کی تصدیق کی ہے جو کئی دہائیوں تک اپنے نسبتاً روشن ساتھی ستاروں کی چمک میں چھپے رہے۔
یہ دریافت برطانیہ کی یونیورسٹی آف واروک اور امریکا کی یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے سائنس دانوں نے ہبل خلائی دوربین کی مدد سے کی، جبکہ اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے منتھلی نوٹس آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہوئے ہیں
سفید بونے دراصل سورج جیسے ستاروں کی زندگی کے آخری مرحلے کی باقیات ہوتے ہیں، جب وہ اپنا تمام ایندھن جلا چکے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے مریخ کے قریب سے گزرنے والے خلائی جہاز کی حیرت انگیز ویڈیو جاری کردی
ماہرین کے مطابق ہمارا سورج بھی تقریباً 5 ارب سال بعد سفید بونا ستارہ بن جائے گا۔
تحقیق کے مطابق یہ چاروں سفید بونے پہلے اس لیے دریافت نہیں ہو سکے کیونکہ ان میں سے ہر ایک ایک سرخ بونے ستارے کے گرد گردش کر رہا تھا۔
سرخ بونے ستارے مرئی روشنی میں اتنے روشن ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ موجود سفید بونے کی روشنی دب جاتی ہے، جس کے باعث وہ عام مشاہدات میں نظر نہیں آتے۔
A pair of White Dwarf stars, the red one with exactly 1 Solar Mass and the blue one with 0.17 Solar Masses, are orbiting their mutual Centre-of-Mass (CoM). pic.twitter.com/oGbBosJUjX
— Adam Hibberd (@hibberdadam994) July 25, 2026
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر میری او برائن نے بتایا کہ عموماً زمین کے قریب موجود الگ تھلگ سفید بونے ستاروں کی شناخت نسبتاً آسان ہوتی ہے، تاہم ان 4 ستاروں کو دریافت کرنے کے لیے بالائے بنفشی شعاعوں میں مشاہدات کرنا ضروری تھا۔
سائنس دانوں کی خصوصی توجہ جی 203-47 نامی دوہرے ستاروں کے نظام پر مرکوز ہوئی، جو زمین سے صرف 25 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ اب سورج کے قریب معلوم ہونے والے سفید بونے ستاروں میں 9ویں نمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: اورائن نیبولا میں پوشیدہ ساخت دریافت، سائنسدانوں نے کائنات سے متعلق اہم راز بے نقاب کر دیا
اس نظام میں سرخ بونا ستارہ تقریباً 14.9 دن میں سفید بونے کا ایک چکر مکمل کرتا ہے، جبکہ اپنی محوری گردش مکمل کرنے میں اسے 100 دن سے زائد کا وقت لگتا ہے۔
یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر کے ڈاکٹر ڈیوڈ ولسن کے مطابق اس غیر معمولی فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے دوہرے ستاروں کے نظام مختلف انداز میں ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔
بعض نظام شدید فلکیاتی تصادم کے نتیجے میں تشکیل پاتے ہیں، جبکہ جی 203-47 جیسے نظام نسبتاً کم شدت کے تصادم سے وجود میں آتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت کر لیا
ادھر یونیورسٹی آف واروک کے پروفیسر پیئر ایمانوئل ٹریمبلے کا کہنا ہے کہ زمین کے قریب خلا میں اس نوعیت کے مزید 9 سے 10 دوہرے ستاروں کے نظام موجود ہو سکتے ہیں، کیونکہ اب تک معلوم سرخ بونے ستاروں میں سے صرف چند فیصد کا ہی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی دریافت نہ ہونے والی بعض اجرام ممکنہ طور پر براؤن بونے بھی ہو سکتے ہیں، جو ایسے فلکیاتی اجسام ہیں جو مکمل ستارہ بننے کے لیے مطلوبہ کمیت حاصل نہیں کر پاتے۔













