ماہرینِ فلکیات نے ایک نیا ایکسوپلینیٹ یعنی شمسی نظام سے باہر موجود سیارہ دریافت کیا ہے، جو زمین سے براہِ راست تصویربندی کیے جانے والے سیاروں میں اب تک کا سب سے مدھم سیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
حیران کن طور پر یہ سیارہ کم از کم 11 سال پرانی تصاویر میں موجود تھا، تاہم اس کی شناخت دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونیوالی تحقیق کے نتائج سے اب ممکن ہو سکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نظام شمسی میں زمین سے 65 گنا بڑا سیارہ دریافت
تحقیق کے شریک سربراہ اور یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ماہر فلکیات بین سٹلیف کے مطابق یہ دریافت مکمل طور پر غیر متوقع تھی۔
انہوں نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم دراصل بیٹا پکٹورس ستارے کے گرد گردش کرنے والے پہلے سے معلوم سیارے کا مشاہدہ کر رہی تھی تاکہ وقت کے ساتھ اس میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے، لیکن تصاویر کے تجزیے کے دوران ایک اور نامعلوم سیارہ سامنے آ گیا۔
It has taken over ten years, but astronomers have finally won a prolonged game of cosmic hide-and-seek with a planet hiding around the star Beta Pictoris. https://t.co/5TMivkluxJ
— SPACE.com (@SPACEdotcom) July 15, 2026
مطالعے کے دوسرے شریک سربراہ مارکس بونسے کے مطابق جب تصاویر کا جائزہ لیا جا رہا تھا تو اچانک محسوس ہوا کہ یہاں کچھ اور بھی موجود ہے۔
اس کے بعد ٹیم نے یورپی جنوبی رصدگاہ کے محفوظ شدہ ریکارڈ کا جائزہ لیا، جہاں انہیں کم از کم 11 سال پرانی تصاویر میں بھی یہ سیارہ دکھائی دیا۔
ایک تصویر میں یہ پہلے سے معلوم سیارے بیٹا پکٹورس بی کے قریب انتہائی مدھم انداز میں نظر آیا۔
مزید پڑھیں: ماہرین فلکیات حیران، آسمان میں ایسا کیا غیر معمولی ہونے والا ہے؟
نئے دریافت ہونے والے سیارے کو بیٹا پکٹورس ڈی کا نام دیا گیا ہے۔
تحقیق کی شریک مصنفہ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی ماہر فلکیات جین برکبی نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹا پکٹورس ڈی گزشتہ ایک دہائی سے ماہرین کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔
یہ سیارہ زمین سے تقریباً 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، جو نظامِ شمسی کے مشتری اور زحل کی طرح ایک دیو نما گیس ہے۔

اس کے شمسی نظام میں موجود دیگر 2 سیارے بیٹا پکٹورس بی اور بیٹا پکٹورس سی بھی دیو نما گیس کا مجموعہ ہیں، جبکہ نیا دریافت ہونے والا سیارہ ان دونوں کے مقابلے میں ستارے سے کہیں زیادہ فاصلے پر گردش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اتنے مدھم سیارے کی براہِ راست تصویر حاصل کرنا غیر معمولی اور انتہائی مشکل کام ہے، کیونکہ یہ طریقہ صرف ان سیاروں پر مؤثر ہوتا ہے جو اپنے نہایت روشن ستارے کے قریب بھی قابلِ شناخت ہوں۔
مزید پڑھیں: ٹی او آئی-5205 بی نامی منفرد سیارے کی فضا نے سائنسدانوں کو حیران کیوں کر دیا؟
مارکس بونسے نے بتایا کہ بیٹا پکٹورس ڈی، بیٹا پکٹورس بی کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ مدھم ہے۔
دوسری جانب امریکا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے سائنس دان ایڈن گبز کی قیادت میں ایک اور تحقیقاتی ٹیم نے بھی جیمز ویب خلائی دوربین کی مدد سے اسی سیارے کی آزادانہ طور پر دریافت کی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج بھی اسی روز دی ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز میں شائع کیے گئے ہیں۔













