ماہرینِ فلکیات نے اورائن نیبولا کے اندر ایک نئی پوشیدہ ساخت دریافت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس کے بارے میں کئی دہائیوں سے موجود بنیادی سائنسی اندازے غلط تھے۔ نئی تحقیق نے اس مشہور نیبولا کی کمیت اور ساخت سے متعلق سائنس دانوں کی سابقہ سمجھ کو چیلنج کر دیا ہے۔
بین الاقوامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ویانا یونیورسٹی کے سائنس دان خوان ڈیاگو سولیر کی سربراہی میں ماہرین نے امریکا کے کارل جی جانسکی ویری لارج ارے (وی ایل اے) اور چین کے فاسٹ (ایف اے ایس ٹی) ریڈیو ٹیلی اسکوپ کی مدد سے اورائن نیبولا کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرینِ فلکیات نے 11 سال پرانی تصاویر میں چھپا نیا سیارہ دریافت کر لیا
تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے نیبولا کے اندر موجود غیرجانبدار ہائیڈروجن گیس کی نئی تصاویر حاصل کیں، جن سے معلوم ہوا کہ اس کی بیرونی پرت کی کمیت پہلے کے اندازوں سے تقریباً 10 گنا کم ہے۔ اس سے قبل اس حصے کی کمیت تقریباً 1,100 شمسی کمیت سمجھی جاتی تھی، تاہم نئی تحقیق کے مطابق یہ صرف 100 شمسی کمیت کے قریب ہے۔
ماہرین نے نیبولا کے اندر ایک نامعلوم چھوٹا خلا بھی دریافت کیا، جس کا پہلے کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ حیران کن طور پر اس خلا کے مرکز میں ایسا کوئی معلوم ستارہ بھی نہیں ملا جو اس کی تشکیل کا سبب بن سکتا ہو، جس سے سائنس دانوں کے لیے نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
Astronomers have uncovered a cosmic bubble hidden inside the Orion Nebula. https://t.co/U3ozrprHQA
— The Debrief (@Debriefmedia) July 18, 2026
تحقیق کے دوران مغربی کنارے سے تقریباً 4 نوری سال کے فاصلے پر ہائیڈروجن گیس کا ایک بڑا ریشہ بھی دریافت ہوا، جس کی کمیت تقریباً 80 شمسی کمیت کے برابر ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ گیس نیبولا سے خارج ہوئی ہے یا کسی قدیم بادل کا باقی ماندہ حصہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافتیں بڑے ستاروں کے اپنے گرد و نواح پر اثرات سے متعلق موجودہ سائنسی نظریات پر نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں اور کائنات کی تشکیل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔













