دریاؤں اور جھیلوں میں تیراکی: صحت بخش مشغلہ یا پوشیدہ خطرہ؟

اتوار 26 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا بھر میں دریاؤں، جھیلوں اور دیگر قدرتی آبی ذخائر میں تیراکی، جسے وائلڈ سوئمنگ یا اوپن واٹر سوئمنگ کہا جاتا ہے، تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق قدرتی پانی کے قریب وقت گزارنے سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور ذہنی صحت بہتر رہتی ہے، تاہم شدید بارش، سیوریج کے اخراج اور زرعی آلودگی کے باعث یہ سرگرمی بعض اوقات سنگین بیماریوں کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دل کے لیے روزانہ کتنی کافی محفوظ؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارش کے بعد عموماً 24 سے 72 گھنٹے تک دریاؤں کا پانی جراثیم کے لحاظ سے غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔

اس دوران سیوریج کا پانی، بارش کے بہاؤ اور مٹی کے ذرات دریاؤں میں شامل ہو جاتے ہیں، جس سے پانی میں نقصان دہ بیکٹیریا اور جراثیم کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ کھلے پانی میں تیراکی کے دوران جتنا زیادہ پانی منہ میں جائے، معدے اور آنتوں کی بیماریوں کا خطرہ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔

بچوں میں یہ خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ تیراکی کے دوران زیادہ پانی نگل لیتے ہیں۔

عام طور پر اس سے اسہال، پیٹ درد اور قے جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں، تاہم بعض صورتوں میں لیپٹوسپائروسس جیسی خطرناک بیکٹیریائی بیماری بھی لاحق ہو سکتی ہے، جو گردوں اور جگر کو متاثر کرنے کے ساتھ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: رات کی ڈیوٹی صحت پر کتنی بھاری پڑتی ہے؟ سائنسدانوں نے بہتر نیند کا نیا طریقہ بتا دیا

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرم یا ساکن پانی میں نیلگوں سبز کائی یعنی بلیو گرین الجی پیدا ہو سکتی ہے، جو ایسے زہریلے مادے خارج کرتی ہے جو جلد، آنکھوں، جگر اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

اگر پانی سبز، دھندلا، جھاگ دار نظر آئے، مردہ مچھلیاں دکھائی دیں یا پانی سے سیوریج یا کیمیکل جیسی بو آئے تو تیراکی سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق سرکاری پانی کے معیار کی جانچ مفید ضرور ہے، لیکن یہ ہمیشہ فوری صورتحال کی عکاسی نہیں کرتی کیونکہ ٹیسٹ کے نتائج اکثر ایک یا دو دن بعد سامنے آتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا وزن کم کرنے والے انجیکشن بال گرنے کا سبب بن رہے ہیں؟

اسی لیے صرف سرکاری رپورٹس پر انحصار کرنے کے بجائے موسم، حالیہ بارش، پانی کی ظاہری کیفیت اور مقامی حالات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔

ماہرین صحت کا مشورہ ہے کہ کھلے پانی میں تیراکی کرتے وقت پانی نگلنے سے حتی الامکان بچیں، جسم پر موجود زخم ڈھانپیں، تیراکی کے فوراً بعد نہائیں اور بخار، سردی لگنے یا شدید سر درد جیسی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی معائنہ کرائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

‎پمز اسپتال سانحہ، 3 روز قبل پیدا ہونیوالی جڑواں بچیاں بھی لقمہ اجل بن گئیں

پمز اسپتال میں آتشزدگی کے باعث 14 نومولود دم گھٹنے سے جاں بحق، والدین کا غفلت کا الزام

پمز اسپتال سانحہ، نواز شریف کا ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

پمز اسپتال میں آگ انتہائی تیزی سے پھیلی اور اس پر قابو پانا مشکل ہوگیا، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

پمز اسپتال میں جان لیوا آگ کیسے لگی؟ سی ڈی اے رپورٹ سامنے آگئی

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار