کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، بھارتی مؤقف مسترد کرتے ہیں، خواجہ آصف

پیر 27 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو جارحانہ بیانات اور سیاسی دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کر سکتا، پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیانات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو سیاسی بیانیے اور دباؤ کے ذریعے مسخ کرنے کی ایک اور کوشش ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری

انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات نہ تو بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی خطے میں امن، استحکام اور بامعنی مذاکرات کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی فیصلے کا انحصار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ رائے پر ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے بار بار الزامات اس کے اپنے ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے اچھی طرح دستاویزی ریکارڈ کی موجودگی میں کوئی اعتبار نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں: بھارتی آئین کے تحت کام کرنے والی حکومت کشمیری عوام کی حقیقی نمائندہ نہیں، ورلڈ کشمیر آگاہی فورم کی عمر عبداللہ حکومت پر تنقید

ان کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کی سرپرستی اور عدم استحکام پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ذریعے پورے خطے کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی خطے میں 2 ریاستوں کے درمیان تصادم کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیرمعمولی سرگرمیاں، ایک اور فالس فلیگ آپریشن کے خدشات

خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان امن اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے، تاہم اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کا عزم غیر متزلزل ہے اور اسے ہرگز آزمایا نہیں جانا چاہیے۔

وزیر دفاع کے مطابق بھارتی قیادت کی حالیہ بیان بازی دراصل ملک کے اندرونی سیاسی بحران، بڑھتی ہوئی بے چینی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے آمرانہ اور تقسیم پیدا کرنے والے طرز حکمرانی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تربت: فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

امن کا پیغام ایک بار پھر ٹیکسلا سے بلند ہونا چاہیے، جاپانی راہب جونسی تیراساوا

کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا، روبینہ کے والد کا انصاف کا مطالبہ

لاہور سمیت کئی علاقوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سیکیورٹی صورتحال کشیدہ

ویڈیو

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

آزاد کشمیر میں الیکشن کا پہلا مرحلہ، میرپور ڈویژن میں پولنگ جاری، سخت سیکیورٹی انتظامات

پہلا ٹیسٹ: پہلی انگز میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم 311 رنز پر آؤٹ، محمد علی کے 4 شکار

کالم / تجزیہ

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں