آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے پیر کے روز انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی معروف سیاستدان اور سینیٹر پالین ہینسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں ان کے پاکستانی نژاد مسلمان سینیٹر مہرین فاروقی کے خلاف دیے گئے بیان کو نسلی امتیاز پر مبنی قرار دیا گیا تھا۔
سخت امیگریشن پالیسی، غیر قانونی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور اظہارِ رائے کی آزادی کے حق میں اپنے مؤقف کے باعث مقبول سینیٹر پالین ہینسن نے 2022 میں ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے بعد مہرین فاروقی کے ایک بیان پر سخت ردِعمل دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں خواتین کھلاڑیوں کو امتیازی سلوک کا سامنا، اقوام متحدہ نے کیا حل بتایا؟
گرینز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر مہرین فاروقی نے اس وقت کہا تھا کہ وہ ایسی نسل پرست سلطنت کی سربراہ کے انتقال پر سوگ نہیں منا سکتیں جو نوآبادیاتی اقوام کی جانوں، زمینوں اور وسائل پر قائم کی گئی تھی۔
اس پر پالین ہینسن نے سوشل میڈیا پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ تم نے آسٹریلیا آ کر اس ملک کے تمام فوائد حاصل کیے، شہریت لی، کئی گھر خریدے اور پارلیمنٹ میں ملازمت حاصل کی۔
Condolences to those who knew the Queen.
I cannot mourn the leader of a racist empire built on stolen lives, land and wealth of colonised peoples.
We are reminded of the urgency of Treaty with First Nations, justice & reparations for British colonies & becoming a republic.
— Mehreen Faruqi (@MehreenFaruqi) September 9, 2022
’اگر تم خوش نہیں ہو تو اپنا سامان باندھو اور پاکستان واپس چلی جاؤ۔‘
مہرین فاروقی کی شکایت پر آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے 2024 میں قرار دیا تھا کہ ہینسن کا یہ بیان ’نسل پرستی کی ایک شدید شکل‘ ہے اور یہ آسٹریلیا کے نسلی امتیاز سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: مبینہ نسلی امتیاز کے الزامات پر مانچسٹر پولیس کے 8 افسران معطل
کیونکہ اس سے نہ صرف مہریں فاروقی بلکہ آسٹریلیا میں مقیم مسلمانوں اور تارکین وطن سمیت رنگ و نسل کی بنیاد پر مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کی توہین، تذلیل اور خوف کا باعث بننے کا امکان تھا۔
پالین ہینسن نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور متعلقہ قانون آئینی طور پر بھی درست نہیں، تاہم عدالت نے پیر کے روز ان کی اپیل مسترد کر دی۔
I am disappointed that the Federal Court has rejected my appeal relating to the claim against me by the Greens’ Senator Faruqi.
My legal team and I will now closely review the decision in the coming days, with a view to commencing an appeal in the High Court of Australia.… pic.twitter.com/bpfXCP6I7w— Pauline Hanson 🇦🇺 (@PaulineHansonOz) July 27, 2026
عدالتی فیصلے کے بعد ہینسن نے کہا کہ انہیں ملکہ الزبتھ کی وفات کے روز سینیٹر مہرین فاروقی اور دیگر افراد کے بیانات پر شدید غصہ آیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک یہ مرحوم ملکہ کی بے حرمتی تھی، اور وہ صرف اسی رویے کی نشاندہی کرنا چاہتی تھیں۔
واضح رہے کہ پالین ہینسن کی جماعت ون نیشن گزشتہ چند برسوں میں عوامی مقبولیت میں نمایاں اضافہ حاصل کر چکی ہے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی، ایشیائی اور سیاہ فام شہریوں کو امتیازی سلوک کا سامنا
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہ آسٹریلیا کی مقبول سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔
پالین ہینسن سرکاری اخراجات میں بڑے پیمانے پر کمی، امریکہ کے محکمۂ حکومتی کارکردگی کی طرز پر اصلاحات اور آسٹریلیا کی بین الاقوامی تنظیموں میں رکنیت پر نظرثانی کی بھی حامی ہیں۔














