بحیرہ کیسپین میں ایک ایرانی بحری جہاز پر مبینہ یوکرینی حملے کے بعد ایران اور یوکرین کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی حکام نے کیف کو سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی روس کو یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے مختصر مہلت، ایران کو بھی دھمکی دیدی
ایرانی حکام کے مطابق حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 3 دیگر زخمی ہوئے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران مناسب وقت پر اس کا جواب دے گا۔
The Iranian threat against Ukraine comes after Ukraine successfully attacked two vessels in the Caspian Sea that were transporting military cargo between Russia and Iran. pic.twitter.com/PwXJLEOF5C
— Mike (@Doranimated) July 27, 2026
دوسری جانب امریکا نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کو مزید موقع دینے کے لیے اپنی عسکری کارروائیوں میں وقتی وقفہ برقرار رکھا ہے۔
اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ’کچھ مہلت‘ دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کشیدگی کے اثرات، امریکی تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
اس سے قبل ایک امریکی ذریعے نے بھی بتایا تھا کہ فوجی کارروائیاں فی الحال معطل ہیں، جبکہ خطے میں امریکی فضائی حملوں کے وقفے کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے ایران کے کسی نئے حملے کی اطلاع بھی سامنے نہیں آئی۔
ادھر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی بحری تجارت بھی متاثر ہونے لگی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ہفتے کے اختتام پر باب المندب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں سستی دیکھی گئی، جس سے عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: مشرقی یوکرین میں روس کی بڑی پیشرفت، اہم شہر پر قبضے کا دعویٰ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور یوکرین کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی یا خطے میں عسکری کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے اہم بحری راستوں پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔













