پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر جرمن نشریاتی ادارے ’ڈوئچے ویلے(ڈی ڈبلیو) کی دستاویزی رپورٹ پر ملک کی سیاسی اور صحافتی شخصیات کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
سابق وزیر خارجہ اور سینیٹر مشاہد حسین سید، سینیئر صحافی سید طلعت حسین اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے رپورٹ کو حقائق کے منافی، یکطرفہ اور پاکستان مخالف قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی ہے۔
مشاہد حسین سید کا سخت ردعمل
سابق وزیر خارجہ اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ 52 منٹ پر مشتمل اس دستاویزی فلم کو دیکھنے کے بعد اس میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ ‘ڈی ڈبلیو’ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو متنازع بنانے اور اس کی قانونی حیثیت و سلامتی پر سوالات اٹھانے کے لیے انتہائی غیر پیشہ ورانہ اور جانبدارانہ انداز اختیار کیا ہے۔
Seeing this 52-minute documentary leaves little doubt that @DeutscheWelle has done such a crude, intellectually dishonest, hatchet job of raising alarm about Pakistan’s nuclear program by questioning its legitimacy & safety, recycling old propaganda to link it to religious… https://t.co/io1Ff3F5L5
— Mushahid Hussain Sayed (@Mushahid) July 26, 2026
انہوں نے کہا کہ دستاویزی فلم میں پرانے پروپیگنڈے کو دوبارہ زندہ کرتے ہوئے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مذہبی انتہا پسندی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ بلکہ حقائق کے منافی بھی ہے۔
‘غیر قانونی طور پر ایٹم بم بنانے’ کے دعوے پر اعتراض
مشاہد حسین سید نے کہا کہ رپورٹ کا آغاز ہی اس دعوے سے کیا گیا کہ پاکستان نے ‘غیر قانونی طریقے سے’ ایٹم بم تیار کیا، جو ان کے مطابق ایک مضحکہ خیز مؤقف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
کیونکہ ان کے بقول دنیا میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا کوئی باقاعدہ قانونی راستہ موجود نہیں، انہوں نے کہا کہ اگر یہی معیاراپنایا جائے تو دیگر جوہری ممالک کے حوالے سے بھی یہی سوالات اٹھنے چاہییں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دستاویزی فلم میں یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان نے 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کے ذریعے پہلی مرتبہ اپنے ایٹمی پروگرام کا باضابطہ اعلان کیا۔
مگر یہ اہم حقیقت نظر انداز کر دی گئی کہ پاکستان کے جوہری تجربات بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں کیے گئے تھے، جبکہ جنوبی ایشیا میں جوہری دوڑ کے آغاز کا ذکر بھی رپورٹ میں مناسب انداز میں نہیں کیا گیا۔
جرمنی کی عالمی ساکھ پر بھی تبصرہ
مشاہد حسین سید نے اپنے بیان میں جرمنی کی خارجہ پالیسی اور عالمی کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے سرکاری فنڈ سے چلنے والے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کے ایسے معیار پر حیرت نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جون 2026 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست کے انتخابات میں جرمنی کو آسٹریا اور پرتگال کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جو اس کی عالمی ساکھ میں کمی کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے جرمن چانسلر کے ایران اور اسرائیل سے متعلق سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بھی تنقید کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کے حوالے سے متنازع قرار دیا۔
سید طلعت حسین بھی رپورٹ پر برس پڑے
سینیئر صحافی سید طلعت حسین نے بھی ‘ایکس’ پر اپنے بیان میں ڈی ڈبلیو کی دستاویزی رپورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں ایک ‘فرضی کہانی’ پیش کی گئی ہے جس میں پرانے اور مسترد شدہ بیانیوں، خصوصاً ‘اسلام پسندوں کے اقتدار سنبھالنے’ کے خدشات کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
Seeing this 52-minute documentary leaves little doubt that @DeutscheWelle has done such a crude, intellectually dishonest, hatchet job of raising alarm about Pakistan’s nuclear program by questioning its legitimacy & safety, recycling old propaganda to link it to religious… https://t.co/io1Ff3F5L5
— Mushahid Hussain Sayed (@Mushahid) July 26, 2026
ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ میں غیر اخلاقی انداز میں ایسے مواد کو دوبارہ استعمال کیا گیا جو مبینہ طور پر خفیہ طریقوں اور دھوکے سے حاصل کیا گیا تھا، جبکہ کئی برس قبل کی ویڈیوز اور مناظر کو نئے تناظر میں پیش کر کے گمراہ کن تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:جرمن نشریاتی ادارے کا پاکستان مخالف دستاویزی فلم پرشدید ردعمل، مشاہد حسین، طلعت حسین اور خواجہ آصف کی کڑی تنقید
سید طلعت حسین نے کہا کہ 2024 میں پاکستان آنے والی پروڈکشن ٹیم نے خود کو پیشہ ور افراد ظاہر کیا، لیکن بعد میں سامنے آنے والی دستاویزی فلم سے ان کے مقاصد واضح ہو گئے، جنہیں انہوں نے ‘پاکستان مخالف مہم’ قرار دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ڈی ڈبلیو کو اپنا نام تبدیل کر کے ‘گوبلز ویلے’ رکھ لینا چاہیے۔
خواجہ آصف کی مشاہد حسین سید کی حمایت
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی مشاہد حسین سید کی ‘ایکس’ پر کی گئی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے ان کے مؤقف کی تائید کی۔ انہوں نے اپنے مختصر پیغام میں کہا کہ مشاہد حسین سید نے تمام تر حقائق بیان کر دیے ہیں۔
Excellent advocacy Mushahid saheb, putting everything and everyone in proper place. https://t.co/NIblH7kNP4
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 27, 2026
وزیر دفاع کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حق میں پیش کیے جانے والے مؤقف کی حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستانی حلقوں کا مؤقف
پاکستانی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں اس دستاویزی رپورٹ پر سامنے آنے والے ردعمل میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کسی بھی تجزیے میں علاقائی سلامتی کی صورتحال، جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک ماحول اور تاریخی پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
جرمن نشریاتی ادارے نے یکطرفہ انداز میں پیش کی جانے والی رپورٹس نہ صرف صحافتی توازن پر سوال اٹھاتی ہیں بلکہ حساس بین الاقوامی معاملات پر غیر ضروری تنازعات کو بھی جنم دے سکتی ہیں۔












